اگر فیصلے نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دیں۔ شاہد خاقان عباسی کا تہلکہ خیز بیان

اگر فیصلے نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دیں۔ شاہد خاقان عباسی کا تہلکہ خیز بیان
کیپشن: Shahid Khaqan Abbasi
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ معاشی حالات کی بہتری کیلئےمشکل فیصلےکرنے ہوں گے، اگر مشکل فیصلے نہیں کرنے تو جتنی جلدی ہوسکے الیکشن کرالیں۔

ایک نجی چینل کے انٹرویو کے دوران  مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات تشویشناک ہیں، بہتری کیلیے مشکل فیصلےکرنے ہونگے۔ اگر مشکل فیصلے نہیں کرنے تو جتنی جلدی ہوسکے الیکشن کرالیں ورنہ حالات اتنے خراب ہوجائیں گے کہ الیکشن کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ مشکل فیصلوں کےسیاسی اثرات بھی ہوں گے، عوام کی جانب سے بھی ردعمل آئے گا، لیکن یہ فیصلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کرنے ہونگے۔

شاہد خاقان نے کہا کہ آج معاشی حالات اتنےخراب ہیں کہ صدر، عدلیہ، سیاسی قیادت کو بیٹھنا ہوگا، قومی سلامتی کمیٹی میں عسکری قیادت اور سیاسی قیادت ہوتی ہے، صدر بھی ہوتا ہے، چاہتے ہیں مشکل فیصلےکریں تو قومی سلامتی کمیٹی کےتمام ممبران ساتھ دیں، اجلاس بلائیں جس میں چیف جسٹس سمیت سب کو مدعو کریں، معاشی صورتحال اور مشکل فیصلے سب کے سامنے رکھیں اور ان پر سب کو اعتماد میں لے کر آنر شپ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں سیاست کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے، آج سیاست کی گنجائش نہیں، آج ملک کے حالات غیر معمولی ہیں سیاست بعد میں ہوتی رہے گی ہمیں ابھی ملک اور معیشت کو سنبھالنا ہے ورنہ سری لنکا کی صورتحال سب نے دیکھی ہے، مشکل فیصلوں پر سب آنر شپ لیتے ہیں یا نہیں اسمبلیوں کا دارومدار آنر شپ پر ہے، ہمیں گارنٹی نہیں سپورٹ چاہیے، اگر مشکل فیصلوں پر سپورٹ ہے تو حکومت جاری رکھیں سپورٹ نہیں ملتی تو حکومت چھوڑ دیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید کہا کہ امریکا سے واپسی پر نواز شریف سے ملاقات ہوئی، سیاست پر گفتگو ہوئی، ان سے بھی کہا کہ مشکل فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو حکومت چھوڑ دیں۔

شاہد خاقان نے کہا کہ خراب معیشت سے بڑا کوئی قومی سلامتی کا خطرہ نہیں ہوتا، خرابیاں صرف ہماری پیداکردہ نہیں، سب کوغلطی قبول کرنی چاہیے، آج غیر معمولی حالات ہیں، مقبولیت کی بات نہیں ہے، 5600 ارب کابجٹ خسارہ ہے،100،200اوربڑھ جائیگاتوکیاہوگا،معیشت کی ایسی حالت کردی گئی جس کانقصان ہورہا ہے، معمول کے حالات میں جو کرتے ہیں اس کی ذمہ داری اٹھاتےہیں، لیکن آج اجتماعی فیصلہ کرنے کا وقت ہےاسحاق ڈار نے جو آرٹیکل ٹوئٹ کیا ان کی رائےسے اتفاق نہیں کرتا، اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو پارٹی لیڈر سے بات کرسکتے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہنا تھا کہ مشکل فیصلوں کےبغیر کوئی حکومت معیشت کو سنبھالا نہیں دے سکتی، معیشت اتنی بگڑجائےگی کہ حکومت یانگراں حکومت کام نہیں کرسکےگی، غیر معمولی حالات میں مشکل فیصلے نہیں کرسکتے تو گھر جائیں، الیکشن ابھی ممکن نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کو5،7ماہ چاہئیں، اتحادیوں کی رائے ہے کہ اسمبلی کو مدت پوری کرنی چاہیے، اگر ساتھی ساتھ چھوڑینگے تو حکومت ختم ہوجائے گی، تاہم اتحادی ساتھ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ ذمے داری بھی لیں گے۔

شاہد خاقان نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تھا پٹرولیم لیوی30 روپے رکھنی تھی اور معاہدے کے مطابق پٹرولیم لیوی ہرماہ 4 فیصد بڑھانی تھی، پٹرول پرسیلزٹیکس17 فیصد رکھنا تھا جو نہیں بڑھایا گیا، پیٹرول کی قیمت خرید، قیمت فروخت سے کم نہیں ہوسکتی لیکن گزشتہ حکومت نے ٹیکس لگانے کے بجائے10 روپے قیمت کم رکھی۔