اسٹیٹ بینک کےباہر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت

اسٹیٹ بینک کےباہر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت

حسن علی: کورونا وائرس کےباعث اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سےیدپر نئے کرنسی نوٹ بنکوں کوفراہم نہ ہوسکےلیکن اسٹیٹ بنک کی عمارت کےباہر نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت دھڑلے سے جاری ہے۔

عید قریب آتےہی شہری نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیےمتحرک ہو گئے، ہرسال ماہ رمضان میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان عیدالفطر کےلیےاربوں روپےکےنئے نوٹ بنکوں کےذریعے عوام کوفراہم کرتا ہے، اس سال کورونا وائرس کےپیش نظراسٹیٹ بنک نےبنکوں کونئےنوٹوں کی فراہمی نہ کرنےکا اعلان کیا تھا.

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس سال عیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹ جاری نہیں کئے جائیں گے، نئے نوٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ ڈی جی بینکنگ اینڈ ایف ایم آر ایم کی زیرصدارت ہونے والے کوڈ 19 کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیاتھا،  نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سرکاری ملازمین، سابق اسٹیٹ بینک ملازمین سمیت کسی کو بھی نئی کرنسی جاری نہیں کی جائے گی۔

تاہم شہرمیں اگر کسی کوبھی نئے نوٹ چاہیں ہوتووہ باآسانی زائد پیسے ادا کرکے اسٹیٹ بنک کےباہر موجود ایجنٹس سےنئےکرنسی نوٹ خرید سکتے ہیں،،ایجنٹس10روپے والےنئے نوٹوں کی گڈی 300 روپےزائد میں فروخت کرتےنظر آتے ہیں جبکہ 20 روپےوالےنئے نوٹوں کی گڈی 350روپےزائدمیں،50 اور100 روپے والےنئے نوٹوں کی گڈی 250 روپے زائدمیں فروخت کرتےرہے۔

بلیک میں نئے نوٹ خریدنےکےلیے اسٹیٹ بنک کی عمارت سےمنسلک سڑک کا رخ کرنے والےشہری کہتےہیں کہ بچوں کو نئے نوٹوں سےعیدی دی جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں،،تاہم حکومت نئے نوٹوں کی عوام کوفراہمی کو یقینی بنائے ۔

اسٹیٹ بنک کی عمارت کےسائے میں بلیک میں نئے نوٹوں کی فروخت کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سےجاری ہے،جبکہ بلیک میں نوٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔