نجی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء کامستقبل خطرے میں پڑگیا

نجی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء کامستقبل خطرے میں پڑگیا

(عمر اسلم)نجی یونیورسٹیوں کی بھی فیسوں میں کمی کےمطالبےکی قراردادپنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی،لیگی ایم پی اے سعدیہ تیمورنےمطالبہ کیاکہ حکومت پنجاب سکولوں کی طرح یونیورسٹیوں کوبھی فیسیں کم کرنےکی ہدایت کرے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ تیمورکاقرارداد میں کہناہےکہ طالب علموں کی اکثریت کےمالی وسائل محدود ہیں،جس وجہ سے بمشکل یورنیوسٹیوں کی فیس ادا کی جاتی ہےجبکہ طلبہ کی بڑی تعداد کو فیسوں کی ادائیگی کےلیے عارضی ملازمت اختیار کرنا پڑتی ہےجس سےان کی پڑھائی کا حرج ہوتا ہے،انہوں نےکہاکہ ملک کے معاشی حالات خراب ہونے سےوالدین سخت پریشان ہیں جبکہ طالب علموں کی فیسوں کی ادائیگی کا معاملہ ان کے لئے مشکل ہوگیا ہے۔

نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین نے موجودہ صورتحال میں فیسوں میں رعایت اور ان فیسوں پر عائد ٹیکسوں کی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مہذب معاشروں میں تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں شرح خواندگی بلند ہے مگر پاکستان میں صورتحال انتہائی افسوس ناک ہے جس کی ایک وجہ سرکاری اور بالخصوص پروفیشنل تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔

واضح رہے کہ  حکومت پنجاب نے نجی یونیوسٹیوں کے مطالبات، اصولی طور پر تسلیم کرتے ہوئے ایک عمل درآمد کمیٹی قائم کی تھی جسے " ہائیر ایجوکیشن ریفارمز" کا نام دیا گیا۔ آٹھ ارکان پر مشتمل کمیٹی میں چار ارکان نجی جامعات کی نمائندگی کے لئےجبکہ چار ارکان ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے لئے گئے۔یہ کمیٹی ہائیر ایجوکیشن کے صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیز ایسوسی ایشن کے چیر مین ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد وجود میں آئی۔

دوسری جانب  پنجاب یونیورسٹی نےگریجوایشن اورماسٹرزکی سطح پرامتحانات کاشیڈول جاری کردیا، یونیورسٹی نے گریجویشن اور ماسٹرز ڈگری کے امتحانات 22 جولائی سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔