گھر میں بیٹھ کر دفتر ی کام کرنیوالوں کیلئے خطرہ

گھر میں بیٹھ کر دفتر ی کام کرنیوالوں کیلئے خطرہ

سٹی 42:عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن اور جزوی کرفیو کے پیشِ نظر تمام تر ادارے اور دفاتر بند ہیں اور  ملازمین گھرو ں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والوں  کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی ہے۔

گھروں سے کام کرنے کی وجہ سے ملازمین کو بے شمار مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب کہ اس سے سائبر سیکیورٹی کے خدشات بھی لاحق ہیں۔اس تمام تر صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حال ہی میں مائیکروسافٹ بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اگر ان کے ملازمین چاہیں تو وہ گھروں سے مستقل کام کر سکتے ہیں جب کہ فیس بک اور گوگل نے بھی گھروں سے کام کرنے کی پالیسی میں 7 ماہ کا اضافہ کیا ہے۔

اس ضمن میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ ستیا ندیلا کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کو مستقل کرنے سے معاشرتی روابط اور ملازمین کی ذہنی صحت خرابی ہو سکتی ہے جب کہ ورچوئل کانفرنسز  ذاتی حیثیت سے ہونے والی ملاقاتوں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔وہ لوگ جو دفتر کے روایتی ماحول اور کام کرنے کے عادی ہیں، اچانک گھر سے کام کرنے سے ان کی ذہنی صحت میں خرابی اور  یہ تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا بھر کی کمپنیوں نے حفاظتی اقدام کے طور پر گھر سے ہی کام کو لازمی قرار دے دیا تھا لیکن مائیکرو سافٹ کے سی ای او ستیا نادیلا کے مطابق یہ قدم ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اچھا نہیں ہے۔

یاد رہے دنیا بھر میں  کورونا وائرس کے مریض بڑھتے جارہے ہیں،اب تک 52 لاکھ کیس ہوچکے ہیں،مرنیوالوں کی تعداد تین لاکھ 24ہزار سے زیادہ ہے،جبکہ 18 لاکھ کے لگ بھگ صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔تمام ممالک نے اس کا پھیلائو روکنے کیلئے مختلف بندشیں لگا رکھی ہیں، فضائی آپریشن بند ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی ۔اب آہستہ آہستہ لاک ڈائون میں نرمی کی جارہی ہے،سروسز کی دکانیں کھولی جارہی ہیں۔