ملزم عابد ملہی کے بارے نئے تہلکہ خیزانکشافات سامنے آگئے

ملزم عابد ملہی کے بارے نئے تہلکہ خیزانکشافات سامنے آگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سٹی42) لاہور موٹروے زیادتی کیس کا فیصلہ کیمپ جیل لاہور میں سنایاگیا،عدالت نے زیادتی کیس کے ملزم کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ، لاہور موٹروے کیس کے ملزم عابد ملہی کا تعلق فورٹ عباس سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور موٹروے زیادتی کیس کا فیصلہ کیمپ جیل لاہور میں سنایاگیا، زیادتی کیس کے ملزم کو سزائے موت کا فیصلہ سنا جاچکا ہے،چالان میں 35 سے زائد گواہوں نے بیانات قلمبند کئے گئے، عدالت نے ملزم عابد کی جائیداد بھی قبضے میں لینے کا حکم دے دیا، لاہور موٹروے کیس کے ملزم عابد ملہی کا تعلق فورٹ عباس سے ہے، ملزم عابد چک 260 ایچ آر کا رہائشی ہے، ملزم عابد چوری،ڈکیتی،قتل اور زنا بالجبر کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا۔

ملزم عابد کے علاقے میں خوف کے باعث تمام مقدمات کی صلح ہو گئی تھی،عابد نے جرائم کا آغاز اپنے چک اور مضافاتی علاقوں سے کیا،عابد کو اکثر مجرمانہ سرگرمیوں میں سیاسی پشت پناہی بھی حاصل تھی، 5 سے 6 سال قبل مقامی پولیس کے خوف سے عابد اس علاقے سے رو پوش ہو گیا تھا،سال 2013 میں چک 257 ایچ آر میں 4 ساتھیوں سمیت ڈکیتی کی واردات کے دوران 15 سالہ لڑکی اور اسکی والدہ کے ساتھ والد کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور جاتے ہوئے گھر سے گندم کے 4 تھیلے اور صرف 2 ہزار روپے اور 1 موبائل فون چھین کو لے گیا تھا۔

عابد نے اپنے ماموں کو بھی زمین کے تنازع پر قتل کیا تھا، ملزم عابد پر پہلا مقدمہ 2013 میں بجرم 395/376 کا فورٹ عباس میں درج ہوا، دوسرا مقدمہ 2014 میں بجرم 149/109/302/324/148 تھانہ کچھی والا میں درج ہوا تیسرا مقدمہ 2014 میں بجرم 379/411 کا تھانہ کچھی والا میں درج کیا گیا، چوتھا مقدمہ 2014 میں بجرم 379/411 کا تھانہ کچھی والا درج کیا گیا پانچواں مقدمہ 2014 میں بجرم 379/411 کا درج ہوا چھٹا مقدمہ 2016 میں تھانہ کچھی والا میں بجرم 379/411 کا درج ہوا ساتواں مقدمہ 2017 میں بجرم 376/ کا تھانہ کچھی والا میں درج ہوا۔

آٹھواں مقدمہ 2017 میں بجرم 447/511/148/149/379/411 کا تھانہ کچھی والا میں درج کیا گیا تھا اور اسی کیس کے مرکزی ملزم شفقت کا تعلق چک 192 سیون آر سے ہے، شفت علی بھی ملزم عابد کا قریبی ساتھی تھا۔ علاقہ مکین نے ان دونوں ملزموں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

M .SAJID .KHAN

Content Writer