پی آئی سی کاامراض قلب میں مبتلا مریضوں کے علاج کا نیا طریقہ

(عظمت اعوان)پنجاب انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی میں سہولتوں کا زوال، دل کے مرض میں مبتلا افراد کا علاج ویل چیر پر کیا جارہا ہے، دل کا دورہ پڑنے والے مریض کو تین گھنٹے ڈاکٹر پوچھنے بھی نہ آئے،لواحقین بھی بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق صوبےبھر میں امراض قلب کی سب سے بڑی علاجگاہ بھی عدم توجہی اور بد انتظامی سے دوچار ہے، ایمرجنسی میں دل کی تکلیف سےآنے والےمریضوں کا علاج ویل چیر پر کیا جارہا ہے، ایک بزرگ شہری نے بتایا کہ اسے دل کا دورہ پڑنے پر پی آئی سی لایا گیا، تین گھنٹے سے اسے ویل چیر پر بیٹھایا ہوا ہے اور اس دوران کوئی ڈاکٹر چیک آپ کرنے نہیں آیا۔

دوسری جانب دور دراز سے مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لواحقین بھی آرام گاہ نہ ہونے کی وجہ سے تپتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں، انتظامیہ نے تعاون کرنے کی بجائے گراونڈ میں پانی چھوڑ دیا جس سے لواحقین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا،لواحقین نے حکومت سے شکوہ کیا کہ بہتر انتظامات نہ ہونے سے انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کوئی ہماری فریاد سنے کو تیارہی نہیں۔

پی آئی سی ویسے تو دل کے مریضوں کی علاج گاہ ہے، انتظامیہ کی نااہلی کے باعث یہ ادارہ مریضوں اور لواحقین کے لئے عذاب گاہ بن گیا ہے،دل کے مریضوں کی تشفی کے لئے بننے والا ادارہ آج مریضوں کے ساتھ ساتھ لواحقین کے لئےبھی درد دل بن چکا ہے۔