اپنے پیاروں کو کہاں دفنائیں، قبرستان میں تدفین کیلئے جگہ ختم

graveyard Township
graveyard

رضوان نقوی: جائیں تو جائیں کہاں، مُردے دفنائیں کہاں، ٹاؤن شپ کے مکینوں کا قبرستان میں تدفین کیلئے جگہ ختم ہونے پر احتجاجی مظاہرہ, کہتے ہیں تدفین کیلئے آئے روز لڑائیاں معمول بن چکی ہیں، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نوٹس لے کر قبرستان کیلئے اراضی دلوائیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹاؤن شپ بازار میں مختلف بلاکس کے مکینوں نے قبرستان میں تدفین کیلئے جگہ ختم ہونے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر نعرے درج تھے کہ "جائیں تو جائیں کہاں، مُردے دفنائیں کہاں "۔  احتجاج میں شریک مقامی افراد کا کہنا تھا کہ ٹاؤن شپ کےقبرستان میں گزشتہ 26سال سے جگہ ختم ہوچکی ہے۔

تاجر رہنما محمد سرفراز خان نے کہا کہ قبرستان میں جگہ ختم ہونے کے سبب مرگ کی صورت میں لواحقین کو دوہرے کرب سے گزرنا پڑتا ہے، قبرستان میں جگہ ختم ہونے کے سبب تدفین کے معاملہ پرآئے روز لڑائی جھگڑا معمول بن چکا ہے۔

احتجاجی مظاہرے میں چیئرمین جمیل الدین فاؤنڈیشن ندیم الدین قریشی،محمود ظفر قادری سمیت دیگر اہلیان علاقہ شریک ہوئے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملہ کی سنگینی کا نوٹس لے کر ٹاؤن شپ مکینوں کو قبرستان کیلئے اراضی دلوائیں۔   

 دوسری جانب پنجاب حکومت نے شہر خاموشیاں اتھارٹی کا دائرہ کار بڑھانے کی تیاری کی ہے۔ ایکٹ میں تبدیلی کرکے پنجاب بھر کے قبرستانوں کی دیکھ بھال شہر خاموشاں اتھارٹی کو دی جائیں گی۔ زرائع کا کہنا ہے کہ شہر خاموشاں اتھارٹی نہ صرف نئے ماڈل قبرستانوں کی تعمیر کرے گی بلکہ موجودہ خستہ حال کی دیکھ بھال بھی کرے گی۔

قبرستانوں کی دیکھ بھال کی زمہ داری لوکل گورنمنٹ کی ہے مگر دائرہ کار وسیع کرنے سے اختیارات اتھارٹی کو دیے جائیں گے۔ زرائع اتھارٹی نہ صرف ماڈل بلکہ دیگر قبرستانوں میں صفائی، باؤنڈری وال، پینے کے پانی کی فراہمی، شجرکاری سمیت دیگر انتظامات کو سپروائز کرے گی۔ زرائع کا مزید کہنا ہے کہ شہر خاموشاں اتھارٹی کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مقصد تمام قبرستانوں میں یکساں سہولیات کی فراہمی کرنا ہے۔