حجاج کے قافلے مزدلفہ سے منی پہنچ گئے، عیدالاضحی کے پہلے دن رمی کی 

حجاج کے قافلے مزدلفہ سے منی پہنچ گئے، عیدالاضحی کے پہلے دن رمی کی 

 ویب ڈیسک : حجاج کے قافلے وقوف عرفہ اور مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد منگل کو نماز فجر کے بعد منی پہنچ گئے اور رمی کی۔ 

عیدالاضحی کے پہلے دن حجاج سماجی فاصلے کے ساتھ  جمرہ عقبہ (بڑے شیطان ) کی رمی کی پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف افاضہ کیا۔ اس کے بعد وہ منی میں اپنا وقت عبادت میں گزاریں گے۔ قبل ازیں حجاج کے قافلے نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کرکے غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچے تھے۔ حجاج کے قافلے سورج غروب ہونے کے بعد نماز مغر ب ادا کیے بغیر میدان عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے۔ حجاج  نے مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں ایک اذان دو اقامت سے سماجی فاصلے کے تحت ادا کیں اور رات کا باقی ماندہ حصہ عبادت میں گزارا مزدلفہ تین بڑے حج مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ منی اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔حجاج یہاں فجر تک قیام کرتے ہیں اور رمی جمرات (علامتی شیطانوں کو کنکریاں مارنا) کے لیے کنکریاں جمع کرتے ہیں تاہم احتیاطی تدابیر کے پیش نظر حجاج کو سینیٹائز کی گئی کنکریاں فراہم کی گئی ہیں۔ذولحجہ کی بارہ اور تیرہ تار یخ کو تینوں جمعرات کی رمی کریں گے۔ بعض حجاج بارہ ذی لحجہ ہی کو رمی کرکے منی سے رخصت ہو جائیں گے۔جمرات کی رمی جسے عرف عام میں شیطانوں کو کنکریاں مارنا کہا جاتا ہے، حج کے اہم مناسک میں سے ایک ہے۔

 رمی کو آسان اور محفوظ بنانے کےلیے جمرات کمپلکں بنایا گیا ہے جو 950 میٹر طویل ہے۔ اس کا عرض 80 میٹر ہے اوریہ 4 منزلہ ہے۔ مستقبل میں کمپلکس کی 12 منزلیں اٹھائی جاسکتی ہیں، جس سے 50 لاکھ حاجی بیک وقت رمی کرسکیں گے۔ جمرات کے ستون 60 میٹر اونچے ہیں،یہ ستون بیضوی شکل کے ہیں۔جمرات کے پل کو مشاعر مقدسہ ٹرین سے بھی مربوط کردیا گیا ہے تاکہ حجاج رمی کے بعد ٹرین کے ذریعے اپنی مطلوبہ منزل تک باآسانی پہنچ سکیں۔