لاہور کی248 عمارتیں خطرناک قرار، ریڈ الرٹ جاری

لاہور کی248 عمارتیں خطرناک قرار، ریڈ الرٹ جاری

(راؤ دلشاد حسین) میٹروپولیٹن کارپوریشن کے کنٹرولڈ ایریازمیں 248 خطرناک عمارتوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ مخدوش عمارتوں میں مقیم ہزاروں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔

اداس چہرے اور ہروقت موت کے سائے تلے بسیرا کرتے مخدوش عمارتوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ غربت اورمفلسی کا شکار ہیں چھت کی نعمت چھن جانے کے باوجود کہیں نہیں جا سکتے۔ داتا گنج بخش زون میں 145مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی۔ جن میں سے 64 مخدوش عمارتوں کو مسمارکر دیا گیا، 59 عمارتوں کی بحالی درکار ہے جبکہ مزید نوعمارتیں رہائش کےقابل بھی نہیں۔

شالامارزون میں دس خطرناک عمارتوں میں ایک مسمار جبکہ چارمزید عمارتوں کو بھی مسمارکرنا ضروری ہے۔ عزیز بھٹی زون میں 62 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی جن میں 15 مسمار کی گئیں جبکہ 15 کی بحالی درکار ہے۔ اسی طرح سمن آباد زون میں 6 اور راوی زون میں 8 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی۔علامہ اقبال زون میں 20 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی جن میں چار عمارتوں کو مسمار کیا گیا جبکہ چودہ عمارتوں کی تزئین و آرائش کردی گئی۔

دوسری جانب میٹروپولیٹن کارپوریشن حکام کا کہنا ہےکہ انتہائی مخدوش عمارتوں کی فہرست کا اشتہار اخبار میں جاری کیا جا رہا ہے جبکہ عمارتیں خالی کرانےکی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ شہر کی مخدوش عمارتوں کی نشاندہی تو ہر سال مون سون میں کی جاتی ہے لیکن سرکاری ادارے اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب کوئی حادثہ رونما ہو جائے، شہریوں کی زندگیاں بچانےکےلیے قبل از وقت اقدامات کرنا ہوں گے۔