پنجاب حکومت کا ایک اور یو ٹرن

پنجاب حکومت کا ایک اور یو ٹرن

(عرفان ملک) پنجاب حکومت نے تبدیلیوں کی انبار لگا دیے مگر پھر اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے پہلے والی پالیسی اپنانا پڑی،کبھی نفری لگاوکبھی نفری ہٹاؤکی پالیسی پرعمل پیرا،ایک سال پہلےجن ناکوں پرنفری ہٹانےکےاحکامات دیئےتھےاب دوبارہ انہیں ناکوں پرنفری لگانے کی منظوری دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق شہرمیں جرائم پیشہ افراد کےداخلےاور انخلاء کو کیسےروکنا ہے؟پالیسی نہ بن سکی، پنجاب حکومت نےایک سال قبل شہرکےداخلی و خارجی راستوں سے پولیس ناکےختم کرائے،لیکن اب دوبارہ 13 ناکےفعال کرنےکے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔

تمام ناکوں پر سیف سٹی کےکیمرے بھی لگانے کی ہدایت کی گئی ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی اور موٹر سائیکل چوری ہونےکےفورا بعد اب سیف سٹی اسےگرے لسٹ میں شامل کر دے گی،جسکی ناکوں پر بھی اطلاع ہوگی۔شہرمیں اس وقت چھ ناکوں پر پولیس کی نفری تعینات ہے،جبکہ سات مزید داخلی اور خارجی راستےمانیٹر کیے جائیں گیے،لیکن ابھی بھی شہرمیں 45 چھوٹےبڑے راستے ایسے ہیں جن کی مدد سےداخل یا شہر سے باہر جایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پرائیویٹ کمپنی نےسیف سٹی اتھارٹی کے ایک ہزار کیمرے ٹھیک کردیے.سیف سٹی اتھارٹی کے 4500 سے زائد کیمرے ناکارہ ہو نے کا انکشاف ہوا تھا۔

واضح رہے کہ  لاہور شہر میں نصب 35سو سےزائدکیمروں نےکام کرناچھوڑ دیا تھا،متعلقہ کمپنی نےبروقت فنڈزنہ ملنےپرسیف سٹی کیساتھ کام سےانکارکردیا۔

حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں متعلقہ کمپنی کو300ملین کی رقم ادا کرناتھی، کمپنی نے موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ ریٹ کے مطابق ادائیگی کی جائے،فنڈزسیف سٹی کوجاری نہ ہونےپرمعاملات ٹھپ ہوکررہ گئے تھے۔