نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈز محکمہ ایکسائز کے گلے پڑ گئے

نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈز محکمہ ایکسائز کے گلے پڑ گئے

( علی ساہی ) محکمہ ایکسائز کو نمبر پلیٹس ، سمارٹ کارڈز اور فائلیں سکینگ کا کنٹریکٹ پرائیویٹ کمپنیوں کو دینا گلے پڑگیا، 6 لاکھ سے زائد نمبر پلیٹس ، ساڑھے 3 لاکھ سمارٹ کارڈز اور 12 ہزار سے زائد فائلیں التواء کا شکار ہیں۔  

محکمہ ایکسائز کو چیزیں آؤٹ سورس کرنا مہنگا پڑگیا ہے جبکہ دن بدن پرائیویٹ کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بروقت چیزوں کی ڈلیوری نہ ہونے کی وجہ سے ایکسائز اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں رجسٹریشن بک ختم کرکے سمارٹ کارڈ متعارف کروایا گیا جسکا کنٹریکٹ پرائیویٹ کمپنی کو دیا گیا تھا۔

موجودہ حالات کے مطابق ساڑھے 3 لاکھ سمارٹ کارڈ بروقت ڈلیوری نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں جبکہ اگلے چند روز میں مزید کارڈز کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ 2006 سے نمبر پلیٹس کا کنٹریکٹ بھی پرائیویٹ کمپنی کو دیا گیا ہے لیکن اب کنٹریکٹ ختم ہونے کے باعث پچھلے چھ ماہ سے 6 لاکھ سے زائد نمبرپلیٹس التواء کا شکار ہیں۔

محکمہ تاحال فیصلہ نہیں کر پارہا کہ نیا کنٹریکٹ دیا جائے یا پرائیویٹ کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں۔ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فائلیں سکین کیلئے بھی پرائیویٹ کمپنی کو کنٹریکٹ دیا گیا تھا کم سٹاف ہونے کی وجہ سے صرف فرید کورٹ ہاؤس میں رواں ماہ کے دوران 12 ہزار فائلیں التوا کا شکار ہیں۔