انارکلی بم دھماکا، وزیراعظم سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

Anar kali bomb blast
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید،  سابق صدر آصف علی زرداری اور  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوسمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے انارکلی بم دھماکےکی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے انار کلی بم دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےپنجاب حکومت سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نےانار کلی بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے پنجاب حکومت سےرپورٹ طلب کرلی ہے، شیخ رشید نے کہا کہ دھماکے سے انسانی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ ہوا، زخمی افراد کی جلد صحتیابی کے لیےدعاگو ہوں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے انارکلی بازار میں ہوئے ٹائم ڈیوائس دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دہشتگردوں کو قانون کی گرفت میں لائے، انہوں نے جانبحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور دھماکے کے زخمیوں کی جلد صحتیابی کےلئے دعا بھی کی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پولیس افسران کی شہادت کے بعد اب انارکلی میں دھماکا تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، وزیرِ اعظم عمران خان میں وہ اہلیت ہی نہیں کہ کسی بحران کو حل کر سکیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی نے بھی انار کلی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی امداد دی جائے، چوہدری شجاعت نے مطالبہ کیا کہ شہرکا امن خراب کرنیوالوں کو فوری گرفتار کر کے سزا دی جائے جبکہ مونس الٰہی نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے لئے دعائے مغفرت جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

واضح رہےکہ لاہور کے مصروف اور قدیم بازار انار کلی میں خوفناک بم دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے نتیجے میں 9 سالہ بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ 25 افراد زخمی ہوگئے،زخمیوں کو  ریسکیو 1122 کے زریعے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔زوردار دھماکے کے نتیجے میں متعدد عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے جبکہ قریب موجود بینک کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔