قتل، اقدام قتل مقدمات کے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئےنئےاصول طے

 قتل، اقدام قتل مقدمات کے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئےنئےاصول طے
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہورہائیکورٹ نے قتل، اقدام قتل مقدمات کے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئے نئے اصول طے کر دیئے، فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ ڈاکٹر کسی بھی میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ میں اپنی رائے کی وجوہات بیان کرنے کا پابند ہو گا، طبی معائنہ کار کی رائے کی وجوہات تحریر کرنے کیلئے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ پر علیحدہ سے خانہ بنایا جائے گا۔

 لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے محمد ناصر کی درخواست پر 13 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے کے مطابق میڈیکولیگل کسی بھی فوجداری کیس کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،محکمہ صحت کسی بھی نااہل اور ناتجربہ کار ڈاکٹر کو میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کی ذمہ داری نہ دے، میڈکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئے طبی معائنہ کار کی کم از کم اہلیت پیمانے کو یقینی بنایا جائے، طبی معائنہ کاری کیلئے ڈاکٹروں کی محض ایک ماہ کی تربیت انتہائی قلیل ہے۔ڈاکٹروں کی میڈیکولیگل کیلئے تربیت دورانیے کو 1 ماہ سے بڑھایا جائے، میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کا حصہ ہے۔

فیصلے کے مطابق ڈاکٹرز اور انکے نگران ادارے اپنی مہارت اور فوجداری انصاف کو بھول چکے ہیں، میڈیکولیگل کا آغاز 2 ہزار 2 سو سال قبل مسیح سے ہوا، میڈیکل قانونی اصولوں نے روم کے جنرل جولیئس سیزر کے قتل کی وجہ کا تعین کیا تھا، عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کی تربیت سے متعلق رپورٹ میں چونکا دینے والے تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے، پنجاب میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئے 90 فیصد ڈاکٹر ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ ہیں، 90 فیصد طبی معائنہ کار عملی طور جانتے ہیں نہیں کہ زخمی کا معائنہ کیسے کرنا ہے، جو ڈاکٹر طبی معائنہ کار کی کم از کم اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے وہ ماہرین نہیں کہلا سکتے، کم از کم اہلیت کے معیار پورا نہ اترنے والے ڈاکٹر میڈیکولیگل آفیسر کے عہدے کے اہل ہی نہیں ہیں، غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں کیسز میں انصاف فراہم نہیں ہوتا، غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں کا قتل، اقدام قتل و دیگر فوجداری مقدمات کا میڈیکل کرنا بڑا خطرہ ہے،

فیصلے  میں مزید کہا گیا کہ طبی معائنہ کار میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ پر درج خانوں میں ہاں یا نہیں پر نشان لگانے کے رواج پر چل رہے ہیں،میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ میں کسی زخم کے خود ساختہ ہونے یا نہ ہونے کی محض رائے دینا غلط ہے، چیئرمین ڈسٹرکٹ سٹینڈنگ میڈیکل بورڈ 2008ء میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ کیلئے جاری ہدایت پر بہرے بنے رہے، 2020ء میں بھی ایم ایل سی کیلئے ایس او پیز جاری کئے گئے تھے جس پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ ڈاکٹر ہی بہتر جانتے ہیں، ،عدالت نے محمد ناصر کی اندراج مقدمہ درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ عدالت نے حکم۔دیا کہ ٹرائل عدالت درخواستگزار کے استغاثہ دائر کرنے پر میرٹ پر فیصلہ کرے،محمد ناصر نے لڑائی جھگڑے میں زخمی ہونے پر اندراج مقدمہ کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔