بدترین مہنگائی نے عوام کو رلادیا

بدترین مہنگائی نے عوام کو رلادیا

سٹی 42: تبدیلی سرکار کے اڑھائی سال عوام پر بہت بھاری رہے۔ بدترین مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلا دیا۔ آٹا، چینی، دالیں، گوشت، گھی سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سو فیصد سے بھی زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت کے اپنے ادارہ شماریات نے حسن کارکردگی بیچ چوراہے بے نقاب کر دی۔ شہزاد خان ابدالی کی رپورٹ دیکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کے اڑھائی سال عوام کو پریشان کرنے کے علاوہ کچھ نہ دے سکے۔ اگست 2018 سے فروری 2021 تک اشیائے ضروریہ کی کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ نہ ہوا ہو۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی اوسط قیمت 38 روپے اضافے سے 93 روپے 59 پیسے کلو ہو گئی۔ گڑ کی قیمت میں 45 روپے 61 پیسے اضافہ ہوا۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 200 بڑھ کر 860 روپے تک پہنچ گیا۔ گھی کی اوسط قیمت 100 روپے بڑھی جبکہ اڑھائی کلو کا ڈبہ 265 روپے مہنگا ہوا۔

دالوں کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو دال ماش کی قیمت میں 107 روپے اضافہ ہوا۔ دال مسور کی قیمت 43 روپے 30 پیسے، دال مونگ 119 روپے 50 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی ۔ دال چنا کے نرخ 38 روپے 65 پیسے بڑھ گئے، چاول کی قیمت میں 14 روپے 55 پیسے اضافہ ہوا۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 216 روپے فی کلو مہنگا ہوا، گائے کا گوشت 100 روپے 57 پیسے بڑھ گیا۔ برائلر گوشت کی قیمت میں 102 روپے اضافہ ہو گیا، انڈے 50 روپے 38 پیسے درجن مہنگے ہو گئے۔

اڑھائی سال میں سبزیوں کی قیمتیں غیریقینی صورتحال کا شکار رہیں۔ تازہ دودھ 20 روپے لیٹر اور دہی 20 روپے کلو بڑھ گیا۔ ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 37 روپے اضافہ ہوا۔