وراثتی سرٹیفکیٹ اب عدالت سے نہیں ملے گا، حکومت کا اہم فیصلہ

وراثتی سرٹیفکیٹ اب عدالت سے نہیں ملے گا، حکومت کا اہم فیصلہ

شاہین عتیق: وراثتی سرٹیفکیٹ اب عدالت کی بجاے نادرا سے لینا ہو گا، گورنر پنجاب نے تیرہ صفحات پر مشتمل آرڈیننس جاری کر دیا، آرڈیننس قانونی ماہرین میں موضوع بحث بنا رہا۔          

تفصیلات کے مطابق وراثتی سرٹیفکیٹ صدارتی آرڈیننس دو ہزار اکیس گورنر پنجاب نے فیڈرل گورنمنٹ کی ہدایت پر جاری کیا ہے۔ آرڈیننس کےمطابق اگر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کے ورثا اب سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے عدالت کی بجائے نادرا آفس سے رجوع کریں گے۔ نادرا کی طرف سے جاری سرٹیفکیٹ کو عدالتی سرٹیفکیٹ کا درجہ حاصل ہو گا۔

حکومت نے عوام کو کئی کئی ماہ عدالتوں کے چکر لگانے سے بچانے اور عدالتوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ آرڈیننس کے مطابق اگر نادرا کسی شخص کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتا تو ورثا عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، کسی مرنے والے کی جائیداد اگر کسی دوسرے شہر میں ہو گی تو وارث کو اسی شہر کے نادرا آفس سے رجوع کرنا ہو گا۔

اگر نادرا کسی کیس کا فیصلہ نہیں کرتا اور معاملہ پیچیدہ ہو تو اس معاملے کو عدالت دیکھ سکتی ہے۔ وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے نادرہ اپنے آفس میں یونٹ بنانے کا پابند ہوگا۔

دوسری جانب میٹروپولیٹن کارپوریشن کی نااہلی شہریوں سے لائسنس اور فیسیں اکٹھے کرنے والی میٹروپولیٹن کارپوریشن نادرا کی نادہندہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن نے سرٹیفکیٹس پیپرز کی مد میں نادار کی ایک کروڑ 50 لاکھ کی ادائیگی روکی تو نادارنے پیپرز کا اجراء بند کردیا۔ شہر کے 107 فیلڈ آفسز میں برتھ، ڈیتھ، میرج اور طلاق سرٹیفکیٹس کا اجراء ٹھپ ہوگیا۔

  نادرا نے ایم سی ایل کے فیلڈ آفسز کو سرٹیفکیٹس پیپرز کی سپلائی روک دی۔ سرٹیفکیٹس پیپرز ختم ہونے فیلڈ آفسز کے عملے تنگ آکر دفاتر ہی بند کردئیے۔ ایم سی ایل کے فیلڈ آفسز میں مطلوبہ سرٹیفکیٹس کے حصول کی ہزاروں درخواستیں التواء کا شکار ہے۔ برتھ، ڈیتھ، میرج اور طلاق سرٹیفکیٹس کی پیپرز کی قلت کے باعث ایک ہزار 740 التواء کاشکار ہوگئیں۔ بلدیہ آن لائن ایپ پر اپ لوڈ ہونے والی برتھ سرٹیفکیٹس کی ایک ہزار 615 درخواستوں میں 462 سرٹیفکیٹس ایشو کیے جاسکے۔