چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی عہدے سے مستعفی

چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی عہدے سے مستعفی

در نایاب:چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی ملک امجد علی نون کا اپنے عہدے سے استعفی دیا، ملک امجد نون کہتے ہیں مستقبل قریب میں کرپشن، بے ایمانی اور گند ہی گند نظر آ رہا ہے جس کا قطعی حصہ نہیں بننا چاہتے۔

چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی ملک امجد نون نے اپنا استعفی وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دیا ہے۔ چئیر مین ایل ڈبلیو ایم سی نے کہا ہے کہ کرپٹ مافیا 110 ارب روپے کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے لیے سر گرم ہے۔ چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی نے استعفے میں تحریر کیا ہے کہ وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق کرپٹ مافیا اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کی اجاراداری کو ختم کیا۔ چیئرمین ایل ڈبلیوا یم سی کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیےمگر کرپٹ مافیا باز نہ آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عہدہ اعزازی طور پر بغیر کسی تنخواہ کے سنبھالا لیکن جب اعلی حکام کے مابین تنازعات ہوں تو استعفی دینا بہتر ہے۔ 

چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی نے الزام عائد کیا ہے کہ تنازعات سی ایم سیکٹریٹ اور صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی جانب سے ہیں۔ ملک امجد نے کہا ہے کہ لاہور کو دو مرتبہ شدید مسائل سے نکالااور بیک لاگ کلئیر کیا اب کمپنی مشکلات سے نکل آئی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹ مافیا اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کمپنی کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

شہر میں صفائی کے تسلی بخش نہ ہونے کا ملبہ ایک ماہ قبل تعینات ہونے والے جی ایم پر ڈال دیا گیا تھا۔ چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی نے ایوان وزیراعلیٰ کی سبکی سے بچنے کیلئے حال ہی میں آنے والا قربان کردیا۔ سیکرٹری ٹو سی ایم طاہر خورشید نے شہر کی ابتر صفائی پر اظہار نہ پسندیدگی کا خط لکھا تھا۔ چیئرمین نے اپنی جان چھڑانے کے لئے معطلی کردی۔ معطل ہونے والے جی ایم آصف نصیر کی پرفارمنس رپورٹ میں بھانڈا پھوٹ گیا۔ 

رپورٹ کے مطابق پندرہ جنوری سے پندرہ فروری تک ڈیڑھ لاکھ ٹن کوڑا ڈمپنگ سائٹ تک پہنچایا گیا، تینتیس فیصد گاڑیاں مرمت کروا کر تعداد ساٹھ فیصد تک بڑھا دی گئی،چھ سو سے زائد گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کی گئی، ایکشن کے دوران پی ایس او اور کمپنی کے ریکارڈ میں پچاسی ہزار لٹر کا فرق دریافت کیا گیا۔ کمپنی نے گھپلوں کی نشاندہی کرنے والی ٹیم کو فارغ کرکے پرانے کھلاڑی میدان میں اتار دیئے۔ 

ذرائع کے مطابق کمپنی کے چیئرمین سے ایوان وزیراعلیٰ کی جانب سے فیلڈ میں نہ نکلنے کا بھی پوچھا گیا، ایوان وزیراعلیٰ کو غیر تسلی بخش جواب دینے پر چیئرمین ایل ڈبلیو ایم سی سے تحریری وضاحت مانگی گئی تھی۔ کمپنی میں کرپٹ افسران کی کرپشن کو روکنے کی بجائے چئیرمین نے کام کرنے والی ٹیم ہی کھڈے لائن لگا دی۔