سینکڑوں ادویات کے نمونے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں تجزیہ کے منتظر


زاہد چوہدری:سرکاری ہسپتالوں کیلئے خریدی گئی سینکڑوں ادویات کے ڈیڑھ ہزار نمونے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں تجزیہ کے منتظر، ٹیسٹنگ نہ ہونے پر کروڑوں روپے مالیت کی ادویات استعمال نہیں ہو رہیں۔ مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی مشکلات سے دوچار ۔

حکومت کی جانب سے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی اپ گریڈیشن کے بعد صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہوگئی ۔ ٹیچنگ اور سرکاری ہسپتالوں کیلئے خریدی گئی اربوں روپے مالیت کی ادویات کے نمونے بروقت ٹیسٹ نہیں ہورہے ۔ ذرائع کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا سسٹم انتہائی سست ہونے کی وجہ سے ادویات کو ٹیسٹ کرنے میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے اور رواں مالی سال کے دوران خریدی گئی۔ سینکڑوں ادویات کا تجزیہ نہیں کیا جاسکا ۔ ادویات کے سیمپل ٹیسٹ نہ ہونے پر اربوں روپے مالیت کی ادویات ہسپتالوں کے سٹورز میں تو پڑی ہیں لیکن قانون کی رو سے استعمال نہیں ہوسکتیں، جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں آنے والے مریض مفت ادویات سے محروم ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی ٹی ایل کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہسپتالوں کو لوکل پرچیز کے ذریعے بازار سے نسبتاً مہنگے داموں ادویات خریدنا پڑ رہی ہیں لیکن لوکل پرچیز کے ذریعے ہسپتالوں کی ادویات کی ضرورت کو صرف دس فیصد تک پورا کیا جاسکتا ہے ۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی استعداد کار کو بہتر بنانے پر تاحال محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے کوئی توجہ نہیں دی ہے۔