حکومتی ارکان اسمبلی کاکالعدم تحریک لبیک کی حمایت کااعلان

(سٹی42)حکومتی ارکان اسمبلی بھی کالعدم تحریک لبیک کے حق میں بول پڑے،پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے پارلیمانی سیکرٹری نذیر احمد چوہان نے کالعدم تحریک لبیک پرلگائی گئی پابندی کو فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کردیا،نذیر چوہان کہتےہیں، ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ واپس نہ لیاگیا تو لاہور کے ارکان اسمبلی کا بڑا گروپ پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیگا۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سینئر رکن اسمبلی نذیر احمد چوہان نے کہاہےکالعدم تحریک لبیک پر سے دہشت گردی کے الزامات فوری ختم کئے جائیں ، وزیراعظم عمران خان سےگزارش ہے کہ وہ تحریک لبیک پاکستان کے وفد سے خود ملاقات کریں ، ان کے تمام مسائل کا حل نکالیں،مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک لبیک کے تمام کارکنان کو فوری رہا کیا جائے،اگر تحریک لبیک پاکستان کے تمام مسائل حل نہ کئے گئےتو پاکستان تحریک انصاف لاہور کا ایک بڑا گروپ پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش ہے کہ آج کے دن سے عہد کریں کہ یہودیوں کی بنائی ہوئی کوئی بھی پراڈکٹ استعمال نہیں کریں گے۔

دوسری جانب مذہبی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ کی کال کے معاملہ پر پولیس بھی ان ایکشن ہے،لاہور پولیس نے لانگ مارچ روکنے کے لئےحکمت عملی تیار کرلی،پولیس نے بس اڈوں سے شورٹی بانڈز حاصل کرنا شروع کر دیئے۔ تمام بس اڈوں کو احتجاج کے لیے ٹرانسپورٹ دینے سے روک دیا گیا ۔کالعدم جماعت کی جانب سے 20 اپریل کو احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس کو روکنے کے لئےپولیس نے جہاں ایک جانب راستے روکنے کے انتظامات کر رکھے ہیں۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لئےٹرانسپورٹ پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، تاکہ مظاہرین احتجاج کے لیےاسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ شہر کے تمام بس اڈوں کی انتظامیہ سے شورٹی بانڈ حاصل کیے جا رہے ہیں کہ وہ کالعدم جماعت کے کارکنوں کو ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کریں گے اور اگر ایسا کیا گیا تو اس ٹرانسپورٹر کے اڈے کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔