شیخ زید ہسپتال کا انتظامی کنٹرول حکومت کی سست روی کی نذر

شیخ زید ہسپتال کا انتظامی کنٹرول حکومت کی سست روی کی نذر

( زاہد چودھری ) شیخ زید ہسپتال سپریم کورٹ کے حکم کے باجود تین ماہ کی مقررہ مدت میں وفاق کے زیر انتظام نہ کیا جاسکا، غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہسپتال کے مالی اور انتظامی امور ابتری کا شکار ہوگئے۔

شیخ زید ہسپتال کو 2012 میں وفاق سے پنجاب کے کنٹرول میں دیا گیا تھا، تاہم سات برس بعد سپریم کورٹ نے رواں برس 17 جنوری کو شیخ زید ہسپتال کا انتظام صوبے سے وفاق کو واپس سونپنے کے احکامات جاری کیے۔ حکم دیا کہ 3 ماہ کی مدت میں ہسپتال کو وفاق کے مالی اور انتظامی کنٹرول میں دینے کا عمل مکمل کیا جائے۔

صوبائی اور وفاقی حکومت کی روایتی سست روی کے باعث 17 اپریل کو 3 ماہ کی سپریم کورٹ کی دی گئی مدت ختم ہوچکی ہے۔ لیکن ہسپتال کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی، جس کے باعث نہ صرف ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں بلکہ علاج معالجہ بھی متاثر ہورہا ہے جس کا خمیازہ مریض بھگتنے پر مجبورہیں۔