بیرون ملک سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالوں کی قابلیت کا پول کُھل گیا

بیرون ملک سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنیوالوں کی قابلیت کا پول کُھل گیا

( ملک اشرف ) بیرون ملک سے بار ایٹ لاء کرنیوالوں کی تعلیمی قابلیت کا پول کھل گیا۔ ہائیکورٹ کی کمیٹی کو انٹرویو میں صرف 5 امیدوار کامیاب اور 21 فیل، حیران کن نتائج پر کمیٹی میں شامل سینئر جج اور ممبران نے سر پکڑ لئے۔

پاکستان سے ایل ایل بی اور بیرون ملک سے بار ایٹ لاء اور ایل ایل ایم کرنیوالوں کے تعلیمی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چھ ماہ کی وکالت ٹریننگ کی شرط سے استثنیٰ حاصل کرنے کے 26 امیدواروں نے انٹرویوز دیئے جن میں سے صرف 3 پاس ہوسکے، ممبر پنجاب بار کونسل جمیل اصغر بھٹی کہتے ہیں بچوں کو بیرون ملک بھیجنے سے والدین کی توجہ ہٹ جاتی ہے جس سے مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔

انٹرویوز کرنے والے ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس شاہد وحید بھی بڑی تعداد میں طلبہ کے فیل ہونے پر حیران رہ گئے، قانون کی تعلیم پر بیرون ملک میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود صرف 5 امیدوار پاس ہوسکے۔ فیل ہونے والوں میں محمد طلحہ چودھری، دانش جاوید، منال خان، عمران محمود، محمد ظہیر اسلم، ناہید کھر، مریم نجم الدین، ثناء اظہر، زارا عبا، زبیر احمد، کوثر شاہین، ربیعہ اعوان، امان ملک، محمد اقبال چودھری، عامر فراز، محمد احمد یاسین، فراز حسین، محمد اشرف سمیت دیگر شامل ہیں۔ انٹرویو کمیٹی کے ممبر جبران خلیل کا کہنا ہے کہ تعلیم ملک میں ہو یا بیرون ملک بچے اگر دلجمعی سے پڑھیں گے تو کامیاب ہوں گے۔

انٹرویو میں پاس ہونیوالوں میں برطانیہ سے بار ایٹ لاء کرنیوالی صوفیہ ضیاء خان، ایل ایل ایم کرنیوالےعلی حسن عباس، زینب کامران سمیت 5 امیدوار شامل ہیں۔