لاہوریئے ہوجائیں ہوشیار خبردار، شہر پر بڑا خطرہ منڈلانے لگا

لاہوریئے ہوجائیں ہوشیار خبردار، شہر پر بڑا خطرہ منڈلانے لگا

 (سعدیہ خان/ عثمان علیم) لاہور میں ڈینگی کے ساتھ سموگ کا خطرہ بھی منڈلانے لگا،  سردیوں میں سموگ کے خطرے کے پیش نظر زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونیوالے بھٹے 15 اکتوبر تا 31 دسمبر تک بند کرنے کا فیصلہ، دھواں چھوڑنے والی سٹیل ملز بھی کام نہیں کر سکیں گی۔

سیکرٹری محکمہ تحفظ ماحولیات سلمان اعجاز کی زیر صدارت اجلاس میں سموگ کنٹرول کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے، بھٹہ ایسوسی ایشن کو ستمبر کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے جبکہ بھٹہ ایسوسی ایشن نے بھٹوں کی بندش کے لیے نومبر تک کا وقت مانگ لیا۔

 اجلاس میں فیکٹریوں کی آلودگی جانچنے کیلئے محکمہ ماحولیات نے آلودگی کنٹرول کرنے والا لائیو مانیٹرنگ سسٹم بھی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کی گاڑیوں کی انسپکشن اور صفائی اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

بھٹہ مالکان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی بری طرح ناکام ہوچکی ہے، کاروباری نظام تباہ ہو چکا ہے، ستمبر میں بھٹے بند کرنے سے لاکھوں کا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

  محکمہ ماحولیات کے مطابق پنجاب بھر میں10 ہزار بھٹے پروڈکشن کر رہے ہیں جبکہ دو سال میں صرف 200 سے زائد بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیے گئے ہیں۔

سٹیل ملز مالکان نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنیکل اسسٹنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی تبدیلی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

 ضلعی انتظامیہ نے بھی محکمہ ماحولیات کو سموگ کے حوالے سے الرٹ کر دیا ہے، شہر میں بھٹوں کی تعداد مجموعی طور پر 150 ہے جن میں سے اب تک صرف 15 بھٹے ہی زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیے جاسکے ہیں۔