ایف بی آر نے ایمنسٹی سکیم والوں سے ہاتھ کردیا

ایف بی آر نے ایمنسٹی سکیم والوں سے ہاتھ کردیا

موج دریا روڈ (رضوان نقوی) سال2019ء کی ایمنسٹی سکیم میں اثاثے اور سیاہ دھن سفید کرنے کے باوجود ٹیکس اور ڈیفالٹ سر چارج کی ادائیگی نہ کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا، ایمنسٹی سکیم کیلئے اثاثہ جات ڈیکلیئر کرنے والے 1200 لاہوریئے ایف بی آر میں لمبا چوڑا کھاتا کھلوا بیٹھے۔ 

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے سال2019ء کی ایمنسٹی سکیم میں اثاثے ظاہر کرنے کے باوجود ٹیکس ادائیگی نہ کرنیوالے لاہوری سرمایہ کاروں پر ٹیکس عائد کرنے کا سلسلہ شرو ع کردیا،  ریجنل ٹیکس آفس کی طرف سے ایک ماہ قبل ایمنسٹی سکیم میں اثاثے ظاہر کر کے بروقت ڈیفالٹ سرچارج ادانہ کر پانیوالے 1200 لاہوری سرمایہ کاروں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔

  ایمنسٹی سکیم کے تحت ٹیکس گزار اپنے پاس موجود سیاہ دھن اور غیر ظاہر کردہ اثاثہ جات کی تفصیلات خود ہی ایف بی آر کو جمع کرواچکے ہیں، لاہوری سرمایہ کاروں کے ذمے ڈیفالٹ سر چارج کی مد میں 64 کروڑ 46 لاکھ روپے واجب الادا تھے۔ 

ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس گزاروں کو ڈیفالٹ سرچارج واجب الادا ہونے کی صورت میں ایمنسٹی کو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایف بی آر نے سال2020ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 8 دسمبر کے بعد مزید توسیع نہ کرنے کا عندیہ دیدیا، ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس گزار اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروا دیں ورنہ آٹھ دسمبر کے بعد قانونی کارروائی ہوگی۔

  ایف بی آر کے مطابق 500 مربع گز سے زیادہ کا گھر یا 1000 سی سی سے زیادہ گاڑی کے مالکان گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، بجلی کے سالانہ کمرشل بل کی مد میں 5 لاکھ سے زائد ادائیگی کرنے والوں کیلئے بھی گوشوارے جمع کروانا لازمی ہے۔ کاروباری آمدنی کی مد میں سالانہ تین لاکھ سے زائد آمدن رکھنے والے افراد بھی گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، تنخواہ کی مد میں سالانہ چھ لاکھ سے زائد آمدنی والے تنخواہ دار ملازمین کیلئے بھی گوشوارے جمع کرانا لازمی ہے۔