لاہورہائیکورٹ، حمزہ شہباز کے حلف کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں  پر سماعت  

 لاہورہائیکورٹ، حمزہ شہباز کے حلف کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں  پر سماعت  
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) لاہورہائیکورٹ میں حمزہ شہباز کے حلف کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں  پر سماعت ،جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ پی ٹی آئی اراکین کی اپیل پر سماعت کررہا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد ،  ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ پیش،ایڈوکیٹ  جنرل پنجاب  احمد ااویس پیش جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جواد یعقوب پیش ہوئے۔

اپیل کندگان کی جانب سے  امتیاز صدیقی ،،  اظہر صدیق پیش ہوئے۔عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش ہونے پر وکلاء سے معاونت طلب کررکھے ہیں۔

 جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی فل بنچ  محمود الرشید، سبطین خان سمیت دیگر کی اپیلوں پر سماعت  کررہا ہے۔فل بنچ میں جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شہرام سرور چودھری، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی طرف سے منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ اپنے ریمارکس میں  جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ  جواد یعقوب صاحب! آئین کا آرٹیکل 140 پڑھیں،آئین کے تحت گورنر صوبے میں ہائیکورٹ کا جج بننے کی اہلیت کے حامل فرد کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مقرر کر سکتا ہے،آپ نے کہا تھا کہ حکومت نے آپ کو ڈیوٹی تفویض کر دی تھی۔ہم ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے جواب کو سراہتے ہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جواب یعقوب نے کہا کہ مجھے جواب کی کاپی دی جائے مجھے اس پر اعتراضات ہیں۔

 جس پر امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا آپ کیسے اعتراض اٹھا سکتے ہیں  کہ  الیکشن ہوئے ، گورنر کو معلوم نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے. گورنر اگر چاہیے کہ اس نے حکومت کو کام نہیں کرنے دینا تو بھی وہ 24 دن سے زیادہ نہیں روک سکتا تھا. کسی بھی طرح یہ معاملہ 24 دن سے زیادہ نہیں چل سکتا تھا. 

جسٹس شاہد جمیل نے  استفسار کیا  گورنر کو کیسے بتایا جاتا ہے کہ الیکشن ہو گیا ہے اور اب اس نے حلف لینا ہے. 

 امتیاز صدیقی نے کہا کہ رولز کے تحت سپیکر گورنر کو جیتنے والے امیدوار کے نام سے مطلع کرتا ہے جس پر جسٹس شاہد جمیل نے استفسار کیا کہ کیا سیکرٹری اسمبلی کا خط نارمل طریقہ کار میں آتا ہے،  کیا گورنر پنجاب حلف سے انکار کر سکتا ہے. 

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے   کہا کہ میرے دلائل میں تمام سوالوں کے جواب ہوں گے، گورنر حلف لینے سے انکار نہیں کر سکتا. 

عدالت  نے امتیاز صدیقی سے استفسار کیا ہم یہ بات نوٹ کر لیں.

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جی بالکل نوٹ فرما لیں. میں کوئی غیر آئینی بات نہیں کروں گا. گورنر یہ نہیں کہہ سکتا کہ الیکشن ٹھیک ہو گیا لیکن میں حلف نہیں لوں گا. مجھے مختصر سا وقت دیں. میں دلائل مکمل کرکے ہر سوال کا جواب دوں گا. جب وزیر اعلی مستعفی ہو تو گورنر اگلے وزیر اعلی کو لانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرے گا. اس پر آئین خاموش ہے. 

 عدالت  کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بھی سوال آیا ہے کہ کیا یہ درخواست قابل سماعت بھی ہے کہ نہیں,

امیتاز صدیقی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گورنر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ حلف نہیں لے سکتا, گورنر ری چیک کر سکتا ہے کہ ان وجوہات پر حلف نہیں لے سکتا۔ گورنر کو حلف لینا ہی لینا ہے، یا حلف لے گا یا سپیکر کا سرٹیفکیٹ مسترد کرے گا۔

جسٹس شہرام سرور چودھری  نے استفسار کیا یہ حلف نہ لینے کے مترادف نہیں؟  

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ گورنر اگر حلف نہیں لینا چاہتا تو پھر وجوہات بیان کرے گا۔  

جسٹس شاہد جمیل خان نے استفسار کیا گورنر عدالتی آرڈر پر نظر ثانی کر سکتا ہے؟  گورنر کو کتنا استثنی حاصل ہے؟  

 اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس پر باہر بڑی باتیں ہوں گی۔ 

 جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا کہ اطمینان رکھیں، عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، غداری کا نام لینے کا مطلب یہ نہیں کہ غداری کا مقدمہ بنا دیا جائے۔

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب آئین خاموش ہو گا تو گورنر جمہوری روایات سے رہنمائی لے گا۔  

 جسٹس شاہد جمیل خان نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ ڈپٹی سپیکر نے جعلی الیکشن کروایا، آپ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ  الیکشن ہو گیے جسکو ایک گروپ ٹھیک کہتا ہے اور دوسرا غلط کہہ رہا ہے. دو رکنی بینچ نے کہا تھا کہ الیکشن کروائے جائیں. یہ نہیں کہا تھا کہ جعلی الیکشن کروائیں. میں دو رکنی بینچ کے فیصلے پر کوئی بات نہیں کر رہا.

 عدالت نے امتیاز صدیقی کو دلائل جلدی مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپکے بعد  اظہر صدیق نے بھی دلائل دینے ہیں۔

ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ مجھے صرف 15 منٹ لگیں گے ۔ 

  عدالت نے استفسار کیا صدیقی صاحب بتائیں, الیکشن درست ہوا یا غلط یہ کون طے کرے گا۔ 

امتیاز صدیقی نے جواب میں کہا کہ  یہ عدالت نے طے کرنا ہے, لیکن ایک خاص وقت کے لیے گورنر بھی کر سکتا ہے,  

 عدالت  نے استفسار کیا کہ یہ کیسے کر سکتا ہے۔ 

امتیاز صدیقی نے کہا کہ میں قانون کے مطابق بتا سکتا ہوں, گورنر کسی کو جواب دہ نہیں ہے, گورنر اپنے فنگشن سے متعلق جواب دے ہے اور نہ ہی اپنی پاور سے متعلق۔

عدالت نے کہا کہ آپ نے کہا کہ عدالت دیکھ سکتی ہے, گورنر بھی۔  

امتیاز صدیقی نے کہا کہ نہیں میں نے یہ نہیں کہا میں نے کہا جب کو کنسیڈر کر رہا ہے اس وقت عدالت نہیں دیکھ سکتی ہے۔ 

عدالت  نے استفسار کیا کہ یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ 25 دن تک عدالت نہیں دیکھ سکتی۔

امتیاز صدیقی نے کہا کہ یہاں پر قانون خاموش ہے۔  یہاں آپ کہتے ہیں کمشنر, اسسٹنٹ کمشنر کے پاس جائیں وہ معاملہ حل کرئے گالیکن یہاں یہ نہیں کہہ رہے کہ گورنر کے پاس جائیں۔ نوٹس کا مطلب یہ نہیں کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو کہا جائے کہ ابھی بتاو. ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل کو مناسب وقت دینا چاہیے تھا. صدر پاکستان کو کچھ معلوم نہیں کہ پٹیشن کیا دائر ہوئی. حمزہ شہباز کی جانب سے بار بار حلف کے لیے پٹیشن کرنا بد نیتی تھا. وہ گورنر کو سانس نہیں لینے دے رہے تھے کہ گورنر کوئی فیصلہ نہ کر لے. 

عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا آپکو دلائل کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہے. 

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ مجھے 45 منٹ درکار ہیں.  

عدالت نے  کہا کہ تو پھر کیس کی سماعت ملتوی کر دیتے ہیں. کیس اب اگلے ہفتے سنا جائے گا.  

لارجر ببچ نے کیس کی مزید جمعرات تک ملتوی کردی۔