لاہور پارکنگ کمپنی کا مستقبل غیر یقینی کا شکار

لاہور پارکنگ کمپنی کا مستقبل غیر یقینی کا شکار

( راؤ دلشاد حسین ) مشیر وزیراعلیٰ ڈاکٹر سلمان شاہ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے کارکردگی پبلک سیکٹر کمپنیز نے لاہور پارکنگ کمپنی کا پوسٹ مارٹم کردیا، لاہور پارکنگ کمپنی کی کارکردگی غیرتسلی بخش قرار جبکہ کمشنر لاہور کو کمپنی کے مستقبل سے متعلق تجاویز اور تحفظات پر مبنی مراسلہ ارسال کردیا۔

وزیراعلیٰ کی قائم کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی نے لاہور پارکنگ کمپنی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دئیے۔ مشیروزیراعلیٰ برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ بھی لاہور پارکنگ کمپنی سے نالاں نکلے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے کمشنر لاہور سیف انجم کو پارکنگ کمپنی کو ختم کرنے یا نئی شرائط پر بحال رکھنے کا مراسلہ لکھ دیا۔ پارکنگ کمپنی کے مستقبل کا فیصلہ کمشنر لاہور کے جوابی مراسلہ سے مشروط ہو گا۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کے مراسلہ کے مطابق لاہور پارکنگ کمپنی شہریوں کو پارکنگ کی سہولیات دینے میں بری طرح ناکام رہی، سینکڑوں سائٹس پر پارکنگ مافیا کی سرپرستی میں اسٹینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ لاہور پارکنگ کمپنی نے کسی کیخلاف باضابطہ کارروائی نہیں کی۔

پارکنگ کمپنی نے چیف فنانشل آڈیٹر کو تعینات کیوں نہیں کیا جبکہ پارکنگ ٹھیکوں کی مد میں آنیوالی رقوم کا حساب کتاب نہیں رکھا گیا اور پارکنگ کمپنی کا ریونیو پروٹوکول کے مطابق کنٹرول نہیں کیا گیا۔

مراسلہ کے مطابق 6 مئی کو ہونیوالی میٹنگ میں صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے پارکنگ کمپنی کو فرسودہ کمپنی قرار دیا ہے، وزیر صنعت نے پارکنگ مشین کولیکشن کے نظام غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔

لاہورپارکنگ کمپنی سیکشن 32 کے تحت وجود میں لائی گئی میٹروپولیٹن کارپوریشن پارکنگ کمپنی کے سو فیصد شئیرز کی مالک ہے۔

قانون کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کا استحقاق ہے کہ پارکنگ کمپنی کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے یا موجودہ صورت میں آپریشن کی اجازت نہ دے۔