آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز تیار

آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز تیار

(علی رامے) پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت آئندہ مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز تیار، آئندہ مالی سال میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے 8 میگا پراجیکٹس رکھے گئے ہیں، آٹھ میگا پراجیکٹس کی کل مالیت 100 ارب روپے سے زائد ہے۔

پنجاب کے محکمے اس وقت نئے مالی سال کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ میں مصروف عمل ہیں،  اب پنجاب میں مالی بحران کے باعث نجی سرمایہ کاروں کی مدد سے بیشتر منصوبوں کو مکمل کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے 8 میگا پراجیکٹس رکھے گئے ہیں، جس میں راولپنڈی رنگ روڈ، لاہور رنگ روڈ، سدرن لوپ، ویونگ سٹی فیصل آباد، واٹر میٹرز کی تنصیب آئندہ مالی سال کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں میں شامل ہیں، گجرات سے جلالپورجٹاں تک سڑک اور ملتان، وہاڑی روڈ کو کو دورویہ کرنے کے منصوبے بھی آئندہ مالی سال میں شامل کر لیے گئے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں مالی بحران کے باعث 190 ترقیاتی منصوبوں کی رواں سال منظوری نہیں دی جاسکی، جس کے باعث دو کھرب چوہتر ارب کے منصوبے ادھورے رہ گئے۔پی اینڈ ڈی حکام کا کہنا ہے کہ محدود ترقیاتی منصوبوں کو نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں شامل کیا جائے گا، جن منصوبوں پر بجٹ دس فیصد سے کم خرچ ہوا انہیں شامل نہیں کیا جائے گا، دس فیصد اور بیس فیصد کے درمیان فنڈز خرچ کرنے والی اسکیموں کو محدود کردیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو رواں سال محصولات کی مد میں کمی کے باعث بجٹ بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، پنجاب کے پاس ترقیاتی بجٹ کی مد میں صرف 130 ارب روپے موجود ہیں، جن میں سے 90 ارب روپے بین الاقوامی ایجنسیوں کے تعاون سے جاری منصوبوں میں لازمی لگائے جانے ہیں، بقیہ 40 ارب سے تمام محکموں کو کیسے فنڈنگ کی جائے گی اس پر پالیسی بنائی جارہی ہے۔