نیا بلدیاتی ایکٹ اور بیوروکریسی

نیا بلدیاتی ایکٹ اور بیوروکریسی

(قیصر کھوکھر) پنجاب اسمبلی نے نیا بلدیاتی ایکٹ 2019ءپاس کر لیا ہے اور اس طرح یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماضی کی نسبت موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پنجاب میں بہترین بلدیاتی نظام دیا ہے لیکن انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ پنجاب کی بیوروکریسی نے یہ نیا ایکٹ تیار کرتے وقت پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ ایک ہاتھ کر دیا ہے اور درپردہ اس بلدیاتی نظام میں بیوروکریسی کوبھی اختیارات دے دیئے ہیں جس سے صحیح معنوں میں بلدیاتی نظام کی آزادی وخودمختاری پر حرف آ رہا ہے۔

اس نئے بلدیاتی ایکٹ کو بیوروکریسی نے خود تیار کیا ہے اور اس تیاری میں سیاسی نمائندوں کو دور رکھا گیا ہے، اس تیاری کے عمل میں بیوروکریسی کا ان پٹ خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس طرح اس بار بھی نئے بلدیاتی ایکٹ میں کئی سقم باقی رہ گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں آج تک کوئی بھی حکومت مستقل بنیادوں پر بلدیاتی نظام نہیں لا سکی ہے۔ ایوب خان سے لے کرپرویز مشرف تک اور میاں شہباز شریف سے لے کر عمران خان تک سبھی حکمران اپنے اپنے دور میں اپنے من پسند بلدیاتی نظام لائے تاکہ بنیادی سطح پر جمہوریت کو پروان چڑھا یا جا سکے لیکن ہر آنے والی حکومت نے سابقہ حکومت کے بلدیاتی نظام کو لپیٹ پر اپنا نیا بلدیاتی نظام نافذ کیا ہے۔

اب جیسے ہی عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے عوام کو نیا ایک آزاد اور ایک خود مختار بلدیاتی نظام دینے کا اعلان کیا، جس میں بلدیاتی نمائندوں کو حقیقی معنوں میں آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملے گا اور انہیں مکمل اختیارات بھی ملیں گے اور انہیں ایک آزادانہ ماحول میں کام کرنے دیا جائے گا ۔ اس ویژن کے تحت عمران خان نے محکمہ بلدیات کو نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءتیار کرنے کا حکم دیا۔

 سابق صدر جنرل پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام کے تجربے کی روشنی میں بیوروکریسی پہلے سے ہی الرٹ تھی کہ کہیں اس بار بھی انہیں ضلعی ناظم کی طرز پر بنائے گئے بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت نہ کر دیا جائے۔ لہٰذا پنجاب کی بیوروکریسی نے سر جوڑ کر نیا بلدیاتی ایکٹ تیار کیا جس میں چیف سیکرٹری تک نے اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے بھی اجلاس کئے اور اس بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے ان کا ان پٹ اور آﺅٹ پٹ لیا تاکہ کسی بھی طرح یہ نیا بلدیاتی ایکٹ ضلعی افسر شاہی سے متصادم نہ ہو اور نہ ہی ضلعی بیوروکریسی کسی بھی طرح ان بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہو۔

اس لئے پنجاب کی بیورو کریسی نے بلدیاتی ایکٹ سے سرے سے ہی ضلع کونسل کو ختم کر دیا ہے اور اس نئے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسلیں نہیں بنائی جائیں گی ,حالانکہ ماضی کے ہر حکمران نے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسل کو ایک بنیادی جز رکھا ہے لیکن موجودہ بلدیاتی نظام سے ضلع کونسل کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری اور اس طرح نہ رہے ضلع کونسل کے سربراہ اور نہ ہی کوئی سوال اُٹھائے کہ ضلع کے ڈی سی کو ضلع کونسل کے چیئرمین کے ماتحت کیا جائے, اس طرح بیوروکریسی نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ضلع کونسل کو ختم کر کے بیوروکریسی کو بالا کیا ہے اور تحصیل کونسلیں بنائی گئی ہیں تاکہ بلدیاتی نمائندے تحصیلوں تک ہی محدود رہیں اور ضلع کا ڈی سی ایک آزاد افسر کے طور پر کام کر سکے وہ کسی بھی بلدیاتی نمائندے یا عہدیدار کے ماتحت نہ ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ بڑی راز داری سے نئے بلدیاتی ایکٹ کو صوبائی حکومت کی مداخلت کا بھی راستہ رکھا گیا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ ایک آزاد اورخود مختار ایکٹ ہو، جس میں بلدیاتی ادارے صرف اپنی اسمبلی کو جواب دہ ہوں لیکن اس میں صوبائی حکومت نے ان بلدیاتی اداروں کی انسپکشن، مانیٹرنگ، سپرویژن اور چیکنگ کا اختیار صوبائی حکومت کو دیا ہے جو کہ اپنے صوبائی افسران کے ذریعے یہ کام کرے گی۔ کیونکہ ڈی سی ضلع میں صوبائی حکومت کا ایک نمائندہ ہوتا ہے لہذا بلدیاتی اداروں کے کسی بھی ایشو پر صوبائی حکومت اپنے مجاز افسران سے ان اداروں کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کرا سکے گی۔

اس طرح بلدیاتی ایکٹ 2019ءکے مطابق صوبائی حکومت کسی بھی افسر سے یہ کام کرائے گی اور یقینا ضلع میں ڈی سی اور تحصیل میں اے سی ہی صوبائی حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں لہٰذا مستقبل میں یہ افسران ان بلدیاتی اداروں میں مداخلت کریں گے۔ ساتھ ساتھ ضلع کے ڈی سی کو ان بلدیاتی اداروں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کا کردار بھی دیا گیا ہے کہ کسی بھی بلدیاتی ادارے کو کوئی بھی ایشو ہو تو ضلع کا ڈی سی صوبائی حکومت یا وفاقی حکومت کے اداروں کے ساتھ مل کر کوآرڈی نیشن سے ان بلدیاتی اداروں کے مسائل کو حل کرائے گا اور ان کے رکے ہوئے کام کرائے گا۔

اس طرح ایک مزید ان ڈائریکٹ مانیٹرنگ والا کردار ضلع کے ڈی سی کو ان بلدیاتی اداروں میں دیا گیا ہے۔ نئے بلدیاتی ایکٹ کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام میں بیوروکریسی نے اپنا ایک موثر حصہ رکھا ہے اور نئے بلدیاتی نمائندے بھی بیوروکریسی کے محتاج ہی ہونگے اور انہیں چلنے کےلئے بیوروکریسی کے ساتھ بنا کر رکھنا ہوگی

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر