'پی ڈی ایم توڑنے کی سازشیں ہورہی ہیں لیکن ہم بچے نہیں'

'پی ڈی ایم توڑنے کی سازشیں ہورہی ہیں لیکن ہم بچے نہیں'

سٹی 42: مولانا فضل الرحمان نےغیر رسمی گفتگو  کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا اتحاد توڑنے کی سازشیں ہورہی ہیں لیکن ہم بچے نہیں، اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، اگر اپنا نفع نقصان نا سمجھ سکیں توہمیں سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں، میرے آصف علی زرداری ، میاں نوازشریف سمیت سب سے رابطے ہیں،  پیپلزپارٹی نے اپنی سی ای سی کا اجلاس بلالیا ہے، مثبت جواب کی امید ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا  فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تجویز آرہی ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف قومی اسمبلی سے استعفے دیے جائیں،  دوسرے مرحلے میں صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز ہے،  سندھ اسمبلی سے سب سے آخر میں مستعفی ہونے کی تجویز ہے، یہ طے ہے کہ ہمارے پاس احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔  اگر صرف ایوانوں میں لڑنا ہے تو پھر پی ڈی ایم کیوں بنائی؟

 انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اسمبلیوں میں جانے یا عوام میں جانے میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہے،  ہم نے عوام میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اب لانگ مارچ رمضان کے بعد ہونے کی امید ہے،  ہم بھارت کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف کے بیان کے حامی ہیں، بھارت کے ساتھ جنگ لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے، بھارت کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں ناں کہ جنگ سے،  کشمیرکے حوالے سے موجودہ حکومت نے جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی ہوتی نظرنہیں آرہی،  اگر تلافی کرنا ہے تو اسی سوچ کی حکومت بھی ہونے چاہیے۔