بلدیاتی اداروں کی بحالی سے متعلق ہائیکور ٹ کا بڑا فیصلہ

بلدیاتی اداروں کی بحالی سے متعلق ہائیکور ٹ کا بڑا فیصلہ

سٹی 42: بلدیاتی ادارےبحال نہ کرنےسےمتعلق  کیس کی سماعت، حکومت نے ہائیکورٹ میں جمع کرایا  گیاجواب واپس لے لیا ۔ اداروں کی بحالی کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹیوں کا نوٹیفکیشن پیش۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے پلان آف ایکشن پر عملدرآمد کیلئے 28 جولائی تک مہلت دے دی۔

 تفصیلات کے مطابق   لاہورہائیکورٹ  کی جسٹس عائشہ اے ملک نے سابق میئر لاہور کرنل مبشر سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی ,عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور سیکرٹری بلدیات  نورالاامین مینگل عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزاروں کی جانب سے چودھری  عمران ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء پیش ہوئے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کہ  سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بلدیاتی ادارے بحال کیوں نہیں کیے جار ہے ۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ بلدیاتی اداروں  کی بحالی کے لئے کمیٹیاں تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا  ہے ۔چیف سیکرٹری  نےبلدیاتی ادارے بحال کرنے  سے متعلق چار کمیٹیاں  تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش  کردیااورعدالت کو بتایا کہ بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے  سےمتعلق ہر جمعہ کو کمیٹیاں  جائزہ اجلاس منعقد کریں گی ۔کمیٹیاں بلدیاتی اداروں کےاثاثے،آمدن  و خرچ کی تفصیلات۔ترقیاتی بجٹ اور تنخوا ہوں پر خرچ ہونے والے اخرجات بارے تخمینہ رپورٹ مرتب کر یں  گی۔

چیف سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ دوہزار نو سے بلدیاتی ادارے کام کررہے  ہیں ۔اب حالات کے مطابق ان کی بحالی کے لئے اقدمات کریں گے۔جسٹس عائشہ اے ملک نے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ بلدیاتی ادارے بحال نہ کرنے کا حکومتی جواب عدالت سے واپس لے لیں جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے حکومتی جواب واپس لےلیا۔جسٹس عائشہ اےملک نے کہاحکومت بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لئے پلان آف ایکشن بنائےاور رپورٹ پیش کرے۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے ریمارکس دئیے کہ کوئی کام رات رات نہیں ہوسکتا۔ حکومت پلان آف ایکشن تیار کرے ۔حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائے۔

عدالت  ملازمین  کی تنخواہوں ،پنشن  سمیت دیگر کاموں کے لئے بلدیاتی اداروں کے فنڈز بحال کررہی ہے۔بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز منجمدرہیں گے۔عدالت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے پلان تیار کرنے کے لیے 28 جولائی تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔