فردوس عاشق اعوان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

فردوس عاشق اعوان کا مستعفی ہونے کا فیصلہ
فردوس عاشق اعوان

قذافی بٹ: دبنگ خاتون سیاستدان اور وزیراعلی پنجاب کی خصوصی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اپوزیشن میں ہوں یا اقتدار میں وہ ہمیشہ خبروں میں رہی ہیں۔ اور اس دفعہ پھر انہوں نے  اپنے استعفے کا اعلان کرکے سیاست کے خاموش پانیوں میں طوفان برپا کردیا ہے۔

کبھی اسسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ پر غیر مہذب انداز میں تنقید کرنے اور اس موقع پر نامناسب الفاظ کے استعمال پر شدید تنقید  ہوتی ہے تو کبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ٹی وی پروگرام کی ویڈیو ہے جس میں وہ پیپلزپارٹی کے رہنما کو تھپڑ مارتی نظر آرہی ہیں۔ اگر مقبولیت کا پیمانہ محض میمز اور ٹی وی پر بننے والے خاکے ہوں تو وہ اس وقت وہ بلاشبہ اول نمبر پر آئیں۔  ان کے سیاسی سفر کاآغاز اس وقت ہوا جب  سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں بڑھائی گئیں تو وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر اپنے آبائی ضلع سیالکوٹ سے ڈسٹرکٹ کونسل کی رکن منتخب ہوئیں۔

2002 کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلیوں میں وہ اسی پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن بنیں اور ایک محکمے کی پارلیمانی سیکریٹری مقرر ہوئیں۔ مسلم لیگ ق کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری ہوتے ہوئے 2007 کے انتخابات سے پہلے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا  اور یوں 2008 کے الیکشن میں سابق اسپیکر چودھری امیر حسین کو بھاری شکست دی۔2013 کے انتخابات میں ا نہوں نے شکست کھائی اور بالاخر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئیں ۔

اب انہوں نے پارٹی کی طرف سے دی گئی بڑی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کے لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے وہ سیالکوٹ الیکشن کی مہم چلائیں گی۔