مویشی منڈیوں میں کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی گئیں


( فاران یامین/ جمال الدین ) مویشی منڈیوں میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں، منڈیوں میں زائد عمر کے افراد اور بچوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق مویشی منڈیوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے لیے اقدامات ہی نہیں کیے جا سکے۔ کاہنہ، ایل ڈی اے سٹی اور کاچھا منڈی میں بیوپاری اور خریداروں نے ماسک کا استعمال نہیں کیا۔ بچے اور زائد عمر کے افراد بھی منڈی میں موجود رہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایس او پیز پرعملدرآمد نہ کورونا وباء کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

ادھر چائنہ سکیم میں غیر قانونی مویشی منڈی لگ گئی، چائنہ سکیم اتوار بازار کے پاس مویشی منڈی لگائی گئی ہے۔ منڈی میں مختلف اقسام کے بچھڑے اور بکرے فروخت کیلئے لائے گئے ہیں۔ اس غیر قانونی منڈی میں قربانی کے جانور خریدنے کے خواہش مند شہریوں کا رش لگا ہوا ہے۔

شہری چھوٹے اور سستے بچھڑوں اور وہڑوں میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ منڈی میں 55 ہزار کا بچھڑا بھی موجود تھا۔ بکرے کی قیمت میں دستیاب بچھڑا شہریوں کی توجہ کا مرکز بنارہا۔ انتظامیہ نے شہر میں غیر قانونی منڈیوں کے قیام پر پابندی تو لگائی لیکن تاحال ان منڈیوں کا قیام روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب ڈی ایچ اے فیزنائن کی مویشی منڈی توسج گئی لیکن خریداروں کی عدم دلچسپی برقرار ہے۔ چیف کارپوریشن آفیسر سید علی عباس بخاری اور ایم او ریگولیشن زبیر وٹو نے مویشی منڈی میں انتظامات کا جائزہ لیا۔ سید علی عباس بخاری کہتے ہیں کہ مویشی منڈی 2 ہزار 300 سو کنال پر محیط ہے جبکہ اب تک مویشی منڈی میں 20 ہزار سے زائد چھوٹے بڑے جانور پہنچ چکےہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منڈی میں بارہ کھرلیاں جبکہ بارہ پبلک ٹوائلٹس تعمیر کیے گئے ہیں۔ مویشی منڈی میں ہیلتھ، لائیو اسٹاک، ایل ڈبلیو ایم سی، ایم سی ایل کے کیمپس لگائے گئے ہیں۔ ڈی ایچ اے فیز نائن کی مویشی منڈی میں بیوپاریوں کی توقع سے زیادہ آمدپر شامیانے کم پڑگئے۔