پنجاب کی افسر شاہی کشمکش کا شکار

 پنجاب کی افسر شاہی کشمکش کا شکار

سول سیکرٹریٹ (قیصر کھوکھر) پنجاب کی افسر شاہی کشمکش کا شکار، کارکردگی کی جانچ پر متفق مگر طریقہ کار پر اعتراضات اٹھا دیئے، حکومت سے پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔

وفاقی حکومت نے اپریل میں ایک پالیسی کا اعلان کیا کہ 20 سال سروس کے بعد ہر افسر کی کارکردگی جانچی جائے گی، کارکردگی کے میعار پر پورا اترنے والے افسرکو نوکری پر رکھا جائے گا، بصورت دیگر قبل از وقت ریٹائر کر دیا جائے گا، اس طریقہ کار پر پنجاب کی بیوروکریسی نے اعتراض اٹھا دیا۔

افسروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ اچھا ہے لیکن عمل کا طریقہ کار غلط ہے۔

پی ایم ایس ایسوسی ایشن کے سابق صدر رائے منظور ناصر نے کہا ہے کہ یہ ایک اچھا قدم ہے، افسر شاہی کے ایک گروپ نے اسے سرا سر ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو 20 سال بعد ہوش آیا کہ کسی بھی افسر کی ضرورت اور موزیت کا حساب لگایا جائے۔

اس گروپ کا کہنا تھا کہ جب نوکری شروع ہوتی ہے تب ہر افسر کی موزیت اور اہلیت کو پرکھا جائے، ریٹائرمنٹ کی عمر تک سنیارٹی کم فٹنس کی بنیاد پر اسے اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے، کرپٹ افسروں کی اے سی آر ہمیشہ بہترین ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے سے ایماندار افسر نظرانداز ہوں گے، گریڈ 21 کے ریٹائرڈ افسرافتخار حسین شاہ نے بھی اس پالیسی کی سخت مخالفت کی ہے، کہتے ہیں کہ پالیسی بنانا حکومت کا حق ہے مگرپالیسی ایسی ہو کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو اور تمام افسروں کو یکساں ترقی کے مواقع ملیں، بیوروکریسی کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن)  کی رکن پنجاب اسمبلی رابعہ فاروقی نے سرکاری ملازمین کوجبری ریٹائرکرنے کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی، قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کوریٹائر کرنے کافیصلہ انسانیت سوز ہے، یہ فیصلہ انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ حالیہ بجٹ میں وفاقی اورپنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے ان کوبنیادی حق سے محروم کیا، اب سرکاری ملازمین کو جبری ریٹائرکرنے کی حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔