بینائی سے محروم کاریگر گھریلو اشیا کیسے ٹھیک کرتا ہے؟

بینائی سے محروم کاریگر گھریلو اشیا کیسے ٹھیک کرتا ہے؟

سٹی 42: خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شنکر کارہائشی نیاز علی بچپن سے بینائی سے محروم ہے لیکن انجن، واشنگ مشین اور ستری سمیت بجلی کے دیگر آلات کے علاوہ ڈرلنگ کے ذریعے بورنگ کرنے میں بھی ماہر ہے اوربورنگ مکمل ہونے کے بعد نیاز نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے پانی کو چیک کرکے بتاتا ہے کہ یہ پینے قابل ہے یا نہیں ۔ نیاز علی کاکہنا تھا کہ مجھے اس سارے علاقے کا پتہ ہے۔ میں یہاں کئی بورنگ کے کنویں کھود چکا ہوں تو مجھے ہاتھوں سے پتہ چلتا ہے کہ اب بور مکمل ہوگیا ہے اور پانی صاف ہے یا نہیں۔ سارے علاقے کی زمین کا مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ فلاں جگہ پر کتنے فٹ کی کھدائی کرکے پانی مل سکتا ہے۔

نیاز علی نے ایک نجی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نہ تو کسی سے سیکھا نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی استاد ہے۔انکا کہنا تھاکہ بچپن سے بینائی نہ ہونے کے باعث مجھے یہی شوق تھا کہ میں کچھ سیکھ لوں اور اسی طرح اب جنریٹر یا کسی بھی انجن، استری اور واشنگ مشین سمیت گھریلو آلات میں اگر خرابی آجائے تو میں اسے ٹھیک کر سکتا ہوں۔

نیاز نے بتایا کہ سب سے پہلے میں پرزے کھولنے والی چابیوں کو سامنے ایک ترتیب سے رکھ دیتا ہوں تاکہ مجھے پتہ چلے کہ کون سی چابی کس نٹ کو کھولنے کے لیے استعمال کروں گا اور اس کا پتہ چابی کو ہاتھ سے چیک کرکے لگتا ہے۔پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ فلاں پرزہ کہاں اور کس طرح فٹ کیا جاتا ہے اور پرزے کو ذہن ہی کے ذریعے چیک کرتا ہوں کہ اس میں کیا خرابی ہے۔

نیاز کے مطابق کئی سالوں سے وہ ان چیزوں کے کاریگر ہیں اور گائوں میں اگر کسی گھر میں کوئی چیز خراب ہو جائے تو لوگوں کے پاس ان کا نمبر موجود ہے، انہیں فون کرکے بلا لیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اللہ نے انہیں دیکھنے کی صلاحیت نہیں دی تاہم جب اللہ ایک حس لیتا ہے تو باقی چار حسیں مزید مضبوط ہوجاتی ہیں۔انکا کہنا تھا کہ میں خود کماتا ہوں۔ میرے ساتھ دو تین مزدور بھی کام کرتے ہیں تو ان کو بھی دیہاڑی دیتا ہوںاور اگردن کے تین، چار ہزار نہ کمائوں تو کام میں مزہ نہیں آتا۔

حکومت سے مطالبہ کے متعلق نیاز نے کہاکہ مجھے حکومت سے صرف اتنا گلہ ہے کہ جو لوگ معذور ہیں، ان کو مواقع فراہم کیے جائے تو وہ باقی لوگوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں کیونکہ ان میں کام کرنے کا جذبہ موجود ہوتا لیکن ان کے پاس مواقع کم ہوتے ہیں