ماتحت عدالتوں کی 6 سو سے زائد اسامیاں خالی،سائلین پریشان

ماتحت عدالتوں کی 6 سو سے زائد اسامیاں خالی،سائلین پریشان

ملک محمد اشرف :   پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں ججزکی چھ سو سے زائد آسامیاں عرصہ سےخالی ہیں،ماتحت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد ساڑھے دس لاکھ سے تجاوز کرگئی،بروقت مقدمات کےفیصلےنہ ہونے سےوکلاء اور سائلین پریشان ہیں۔

ذرائع کےمطابق لاہور سمیت صوبہ بھر کی ماتحت عدالتوں میں 470 سےزائد سول ججزکی آسامیاں خالی ہیں،120 سے زائد ایڈیشنل سیشن ججزاور 20 سےزائد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججزکی آسامیاں خالی ہیں،رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھرمیں مزید سیشن ججز بھی ریٹائر ہورہے ہیں،سیشن جج عبدالحفیظ 13اگست کو ریٹائرڈ ہوں گے،سپیشل جج انسداد دہشت گردی کورٹ لاہورعبدالقیوم خان 17 اگست کو ریٹائر ہوں گے،رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ بہادر علی خان یکم ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔

سیشن جج راناآفتاب احمدخان بھی رواں سال 31 اکتوبرکو ریٹائر ہوں گے،جج پنجاب لیبرکورٹ لاہور اشتر عباس رواں سال 27 نومبر،سیشن جج ملک خضر حیات 30نومبر کواور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل اکرام 31 دسمبر کو ریٹائر ہوں گے،کلاء اور سائلین کا کہنا ہے کہ ججز کی کمی پوری کرنے سے بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

خیال رہے صوبائی دارالحکومت میں تعینات ضلعی اور خصوصی عدالتوں کےججز سرکاری رہائش گاہوں سے محروم ہیں،کسی بھی حکومت نےجوڈیشل آفیسرز کے لیےسرکاری رہائش گاہیں بنانےپرتوجہ نہ دی،ججزعدم سہولیات کے باعث پریشان ہیں۔

صوبائی دارالحکومت میں تعینات ضلعی عدالتوں کےججزکومناسب انفراسٹر کچر میسر نہ ہونےکےباعث بروقت انصاف کی فراہمی کاعمل متاثر ہورہا ہے،ذرائع کے مطابق لاہور میں کئی جوڈیشل افسران اہلمدوں کےکمروں میں عدالتیں لگانےپرمجبورہیں،ایوان عدل کے قریب ایل ڈی اے کمپلیکس کی چھ منزلہ عمارت عدالتوں کےلیےکرایہ پرلی گئی.

عمارت میں واش روم سمیت دیگرسہولتوں کا فقدان ہےلاہور میں صارف عدالت، لیبرکورٹس سمیت کئی خصوصی عدالتیں کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں،صرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہورکو جی او آر ون میں سرکاری رہائش گاہ میسر ہے،،جبکہ ضلعی عدالتوں کےدیگر ججز کےلیےسرکاری رہائش گاہیں میسرنہ ہونا سب سےبڑا مسئلہ ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں تعینات اڑھائی سو سےزائد جوڈیشل افسران پرائیویٹ گھروں میں رہنےپرمجبور ہیں،ضلعی عدالتوں کےججزکو پرائیویٹ گھرکرایہ پرلینےمیں بھی مشکلات کا سامناہے،جوڈیشل افسران کا شکوہ ہےکہ ججز کو کوئی جلد کرائے پرگھر دینےکو تیار نہیں ہوتا،ضلعی عدالتوں کےججز کے لیےرہائشی سکیم بنائی جانی چاہئے۔