طالبان کے آتے ہی بھارت سے دوطرفہ تجارت میں کمی، پاکستان سے کاروبار میں اضافہ 

طالبان کے آتے ہی بھارت سے دوطرفہ تجارت میں کمی، پاکستان سے کاروبار میں اضافہ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : طالبان کی طرف سے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت  میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بھارت سے باہمی تجارت نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔

 رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر کارگو گاڑیوں اور لوگوں کی آمد و رفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ۔15 اگست کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تاریخ کی کم ترین سطح پر چلی گئی تھی جب درآمد، برآمد اور ٹرانزٹ مصنوعات سے لیس صرف 475 ٹرکوں نے چمن، خرلاچی، غلام خان اور طورخم کا بارڈر پار کیا۔ تاہم 17 اگست کو سرحد پار نقل و حرکت کرنے ٹرکوں کی تعداد ایک ہزار 123 تک جاپہنچی۔ افغان قونصلیٹ کے ٹریڈ افسر نے آگاہ کیا تھا کہ 2 ہزار سے زائد خالی گاڑیاں/کنٹینرز افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف  بھارت کی فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن یا  ایف آئی ای او   کے ڈی جی ڈاکٹر اجے سہائے   کا کہنا ہے کہ طالبان نے پاکستان  کے ٹرانزٹ روٹ سے کارگو کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے ،جس سے بھارت میں درآمدات بند ہو گئی ہیں۔  یادرہے بھارت چینی ، دواسازی ، چائے ، کافی ، مصالحے اور ٹرانسمیشن ٹاور افغانستان کو برآمد کرتا ہے۔ ساتھ ہی خشک میوہ جات اور پیاز جیسی چیزیں افغانستان سے درآمد کی جاتی ہیں۔ بھارت اپنے خشک میوہ جات کا 85 فیصد افغانستان سے درآمد کرتا ہے۔ تاہم ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ تجارت سے متعلق سرگرمیاں جلد ہی شروع کی جائیں گی ۔یادرہےترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ طالبان پڑوسی ممالک سے تجارت جاری رکھیں گے، جبکہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔