ڈاکوؤں کی والدین کے سامنے لڑکی سے اجتماعی زیادتی

rape girl, accused arrest
rape girl

(ویب ڈیسک)زیادتی کی لرزہ خیرہ وارداتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے، آئے روز حوا کی بیٹیوں کی عزتیں پامال کرنے والے درندے آزاد گھوم رہے ہیں پکڑے جانے پر سکیورٹی اداروں کی جانب سے روایتی کارروائی کرکے باعزت بری کردیا جاتا ہے، ایسا ہی افسوس ناک واقعہ شیخوپورہ  میں پیش آیا۔

تفصیلات کےمطابق معاشرے میں ہوس پرستوں نے خواتین کا گھروں سے نکلنا محال بنادکرکھ ہے، کمسن بچے، بچیاں بھی غیر محفوظ ہیں،لاہور میں حالات بدتر ہوچکے ہیں جس کی اہم وجہ پولیس میں چھپی لالی بھیڑیں جو ان دندروں کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، ملزموں سے بھاری رشوت کے کر باعزت بری کردیا جاتا ہےجس نے معاشرے میں پھر جرائم کی نئی فضا قائم ہوجاتی ہے، پنجاب کے شہرشیخوپورہ  میں ڈکیتی کی نیت سے آئے سفاک دندروں نے بیٹی کو والدین کے سامنے بدفعلی کا نشانہ بناڈالا۔

شیخوپورہ میں بھکھی کے علاقہ نواب کوٹ میں دوران ڈکیتی لڑکی سے زیادتی کا واقہ پیش آیا ہے، ڈاکوؤں نے والدین کےسامنے لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی ہے،واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، پولیس نے متاثرہ خاندان کی نشاندہی پر تینوں ملزموں کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

گھر کے سربراہ کے مطابق تین ڈاکو رات گئے گھر میں داخل ہوئے، اسے بیوی اور بیٹی سمیت ایک کمرے میں بند کرکے ہاتھ باندھ دیے اور بیٹی کو گن پوائنٹ پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروایا جارہا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ہنجروال کے علاقہ میں کم عمر بچی کو دینی تعلیم کے کیے جاتے ہوئے دکاندار نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا، پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم جمشید نے ہنجروال کے علاقہ میں ویڈیو گیمز کی دکان بنا رکھی ہے،بچی اپنے گھر سے دینی تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھی کہ ملزم نے بچی کو گلی سے اپنے گھر لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا،بچی کے شور مچانے پر ملزم نے بچی کو 5000 روپے دیے کہ وہ گھر جا کر نہ بتائے۔

 تاہم بچی جب گھر پہنچی تو اس کی حالت غیر دیکھ کر اہلخانہ کے دریافت کرنے پر بچی کے سارا قصہ بیان کر دیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے درندہ صفت ملزم جمشید کو گرفتار کر لیا جبکہ موقع پر شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فرانزک ٹیموں کو بھی بلوا لیا گیا جنہوں نے شواہد اکٹھے کر لیے جبکہ پولیس نے بچی کے اہلخانہ کی درخواست پر کاروائی کا آغاز کر دیا ہے.