معاشرے کو محفوظ بنانا ہوگا

معاشرے کو محفوظ بنانا ہوگا
City42 - Sadia Khan

(سعدیہ خان) سولہ اکتوبر بروز منگل کی اذیت ناک رات، نیند نہ بھوک، زندہ ہوں یا ابھی سے مر گیا ہوں، سترہ اکتوبر ایک ایسی صبح جس کا انتظار تھا مگر دعا کہ اذیت بھری کالی رات رہے مگر یہ صبح نہ ہو پائے، یہ تمام سوچیں اور موت کا ڈر کیا زینب کے قاتل عمران کو محسوس ہوا ہو گا؟ نہیں بات کچھ یوں کرتے ہیں کہ سردی کی راتوں میں ماں باپ کی منتظر ننھی زینب کی سوچ کیا ہوگی ،کیا صبح اٹھ کر زینب نے اتنی بھیانک رات کا خواب دیکھا ہو گا جب ماں باپ سے ملوانے کا جھانسہ دے کر عمران اس کا ہاتھ تھامے اس کو ورغلا کر لے گیا تھا ۔کیا اس رات عمران کو دنیا اور ایمان کی سوچ آئی ہوگی؟

زینب کے ساتھ زیادتی کے بعد اس بچی کی آہ و پکار پر عمران کو دور کہیں بھیانک خیال آیا ہو گا یا اس کے گندے ذہن میں کسی زندہ انسان کو مارنے کا خوف تھا۔ سب سوالوں کا جواب ہے نہیں.... ہوس میں اندھے انسان نے سوچا خوف کیا بلا ہے، میں بہادر درندہ ہوں جو چاہوں کر لوں، جس کو چاہوں مار ڈالوں، ویسے بھی آج تک کسی کو میری شرافت پر شک ہوا کیا؟ نہیں کیونکہ میں ہر ظلم کے بعد توبہ نہیں کرتا بلکہ توبہ کا درس دیتا ہوں اور میں عبادت کے نام پر شرافت خرید تا ہوں۔ سولہ اکتوبر کی رات ماں کی سوچ کا محور کیا ہوگا ،کیا یہ دعا ہوگی اللہ میرے بچے کو بچا لے تو ستر ماﺅں سے زیادہ پیار کرتا ہے یا یہ فکر کہ عمران کا جنازہ بھی پڑھانے کو کوئی تیار ہوگا یا نہیں ۔

 رشتوں سے جڑی اذیت کیا ہوتی ہے زینب کی ماں جانتی ہے یا عمران کی ماں۔ عمران کو سزا ہو چکی، موت کا منتظر وہ دن آن پہنچا۔ سترہ اکتوبر کو ایک انسان نما درندے کےلئے تخت دار اس کا مقدر بن گیا، جیل کی سلاخوں کے پیچھے خاموشی سے زمین کو گھورتے عمران کے لیے اب اس دنیا میں کوئی عزت نہیں تھی،کبھی چھت کو دیکھتا کبھی زمین کو گھورتا۔ کالی خوف ناک رات اور اس رات کے گزر جانے کا خوف کیا ہوگا، کوئی مجرم ہو یا بے گناہ وہ اس وقت سے قبل ہی مر جانے کی دعا کرتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ عمران کوبھی یہی خوف محسوس ہوا ہو، ہوسکتا ہے زینب کا مرا ہوا چہرہ اس کو سکون نہ لینے دیتا ہو ،مگر کیا اس وقت عمران نے اپنا مستقبل سوچا تھا، کیا اس کو معلوم تھا کہ تن تنہا دیکھ کر جس بچی کو درندگی کا نشانہ بنایا اس کی ماں اللہ کے گھر ہے اور اللہ اس کے گھر کی حفاظت پر معمور،، ہوسکتا ہے عمران پہلے کی طرح اس بار بھی اس قتل کے بعد بچ نکلتا مگر اللہ کی پکڑ نے اس کو آ ن پکڑا.... موت کا ڈر انسان کو جینے نہیں دیتا۔ زینب کے باپ نے بیٹی کے مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیکھا ہو گا تو کہیں عمران کی ماں نے بھی بیٹے کی آخری سانسوں کو بند ہوتا محسوس کیا ہو گا۔

زینب قتل کیس کے مجرم عمران کی پھانسی پر سرعام پھانسی کا تذکرہ ہوا۔ کیا سرعام پھانسی ہونی چاہیے تھی، انسانیت کے ناطے زینب کے قاتل کو معاف کیا جا سکتا تھا؟ نہیں کیونکہ ہم جس معاشرے میں پروان چڑھ رہے ہیں وہاں عملی طور پر اقدامات سے ہی معاشرتی بہتری ہوسکتی ہے... موت اور سزا کا خوف پیدا کرنے سے ہی انسانیت نظر آسکتی ہے۔ عمران کو سرعام پھانسی ہونی چاہیے تھی؟ جواب ہے ہاں! کیونکہ ہم اپنے بچوں میں برائی کے انجام کا خوف دیکھنا چاہتے ہیں ... دعا ہے کہ خدا نہ کرے کوئی اور عمران پھر پیدا ہو۔اب عمران کو تختہ دار پر چڑھایا جا چکا ہے،معصوم زینب کے والد نے قاتل کو اپنی آنکھوں کے سامنے انجام تک پہنچتے دیکھا۔یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ ایسے گھناﺅنے جرائم پر عبرتناک سزائیں دینے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے جس سے معاشرے کو تحفظ مل سکے۔