ڈی جی نیب لاہور کو عدالت کا بلاوا آگیا

ڈی جی نیب لاہور کو عدالت کا بلاوا آگیا

(ملک اشرف) چودھری برادران کی چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف درخواستوں پر سماعت ، ہائیکورٹ نے ڈی جی نیب لاہور کو رپورٹ سمیت 26 نومبر کو طلب کر لیا۔ جسٹس صداقت علی خان نے کہا ڈی جی نیب بتائیں کہ چودھری پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین کیخلاف انویسٹی گیشن کب سے زیر التواء ہے اور قانونی طور پر کب تک ایک انکوائری کو زیر التواء رکھا جا سکتا ہے ۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں دورکنی بنچ نےچودھری پرویزالہی اور چودھری شجاعت کی درخواستوں پرسماعت کی۔درخواستگزاروں کی طرف سےامجد پرویزایڈووکیٹ پیش ہوئے۔جسٹس شہرام سرورچودھری نےکہاکہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر عدالتی حکم کےباعث زیرالتواءنیب انکوائریزکی تفصیلات طلب کی تھیں۔نیب پراسیکیوٹرنےجواب دیا9 انکوائریز زیرالتواءہیں۔

جسٹس صداقت علی خان نےکہا یہ بتائیں کہ چودھری پرویزالہی اورچودھری شجاعت حسین کیخلاف انکوائری کب سے زیرالتواء ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا غیرقانونی بھرتیوں کی انکوائری بندکردی گئی ہے، آمدن سے زائداثاثوں کی انکوائری سال2000ء سےزیرالتواء ہے۔ جسٹس صداقت علی خان نے کہا20سال ہوگئےاور انکوائری ابھی بھی زیرالتواءہے؟ آئندہ سماعت پر ڈی جی نیب کو طلب کررہےہیں۔ درخواستگزارچودھری برادران کی جانب سے موقف اختیارکیاگیا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کرنیوالےادارہ ہے۔نیب کےکرداراورتحقیقات کے غلط اندازپر عدالتیں فیصلے بھی دےچکی ہیں،چیئرمین نیب کو20سال پرانی اور بند کی جانیوالی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیارنہیں، ہمارا سیاسی خاندان ہے،سیاسی طورانتقام کانشانہ بنایا جاتارہاہے۔ درخواستگزاربےداغ سیاسی کیریئرکےحامل ہیں، کبھی کرپشن نہیں کی۔