پنجاب حکومت کا صوبائی قرضوں پر بھی کمیشن بنانے کا اعلان

پنجاب حکومت کا صوبائی قرضوں پر بھی کمیشن بنانے کا اعلان

(علی اکبر، قذافی بٹ) پنجاب حکومت نے صوبائی قرضوں پر بھی کمیشن بنانے کا اعلان کردیا جبکہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا کہ ملک موجودہ معاشی حالات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

 سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف کی تقریر سے بجٹ پر عام بحث کا آغاز کیا گیا، اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ہے، مہنگائی کا طوفان ہےجبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 2500 سے 10 ہزار تک کمی کی گئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایوان وزیر اعظم اور گورنر ہاﺅس کے مختص بجٹ سے زیادہ وہاں اخراجات ہوئے، ایوان وزیر اعلیٰ کے اخراجات میں بھی 18 کروڑ زیادہ خرچ کیے گئے، سی ایم کے پروٹوکول اور ہیلی کاپٹرپر کروڑوں خرچ ہوئے۔

 حمزہ شہبازنے کہاکہ حکومت کے پاس معاشی پالیسی نہیں ،بجٹ میں ہر طبقے پرٹیکس لگایا گیا، سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج و معالجہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت کے موجودہ بجٹ کو مسترد کیا جبکہ صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ( ن) لیگ کی حکومت کے 56 ارب کے چیک بونس ہو چکے ہیں، جس پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور نیب چاہتی ہے کہ اپوزیشن سچ بولے، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 5 ہزار ماہانہ والے پٹرول پمپ کروڑوں میں نیلام کر کے سرکاری خزانہ کو فائدہ پہنچایا۔

 بشارت راجہ کا کہنا تھاکہ مرکز کی طرح پنجاب میں قرضوں کا جائزہ لینے کے لئے بھی کمیشن تشکیل دیا جائے گا، سابق وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے کہاکہ حکومت نے بجٹ میں اقلیت کے لئے کچھ نہیں رکھا۔