ریسٹورنٹس مالکان نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا

( قیصر کھوکھر/ سعید احمد/ راؤ دلشاد/ وقاص/ شہزاد خان ) سمارٹ لاک ڈاؤن کے باوجود ریسٹورنٹس مالکان نے حکومتی پابندی کو بالائے طاق رکھ دیا، شہر کے کھلے ریسٹورنٹس نے حکومت کی کارکردگی کا پردہ چاک کردیا، ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی جبکہ پولیس اور انتظامیہ بھی ساتھ مل گئی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ مزنگ اور پیکو روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں کورونا ایس اوپیز کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو صرف ٹیک اوے کی اجازت دی گئی مگر پیکو روڑ پر پہلوان چسکا ہوٹل انتظامیہ نے کورونا ایس اوپیز کو یکسر نظر انداز کردیا۔ پہلوان چسکا ہوٹل میں درجنوں شہری کھابوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کھانا کھانے کے دوران شہریوں نے سماجی فاصلے کو بھی یکسر نظر انداز کیے رکھا جبکہ ضلع انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی۔

ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے والی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی، نیشنل این سی او سی ہو یا پنجاب حکومت سبھی کی کارکردگی کا شہر کے کھلے ریسٹورنٹس نے پردہ چاک کردیا ہے۔ تھانہ لٹن روڑ کے بالمقابل چوک خان بابا ریسٹورنٹ پر ڈائننگ سروس جاری ہے۔ ہوٹل پر کھانے کی سروسز کی فراہمی جاری ہے، ہالز میں فیمیلز باقاعدہ بیٹھ کر کھابے کھا رہے ہیں۔ ٹاؤن شپ اور گرین ٹاؤن میں تمام ہوٹل اور ریسٹورنٹس کھلے ہیں جہاں درجنوں افراد اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے میں مصروف ہیں۔ تھانہ لٹن روڑ اور انتظامیہ کی ناک تلے ایس او پیز کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔

دوسری جانب خان بابا ریسٹورنٹ کورونا وائرس کے باعث ایک روز بھی بند نا کرایا جاسکا، پابندی کے باوجود خان بابا ریسٹورنٹ میں ڈائن ان سروس کا سلسلہ جاری ہے۔ فیملیز کے ساتھ شہریوں کو ڈائن ان سروس کی فراہمی جاری رہی۔ خان بابا ریسٹورنٹ میں ملازمین اور کیش کاؤنٹرز پر ماسک کا استعمال نا سماجی فاصلے کی پرواہ کی گئی۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں 15 روز کی مزید توسیع کردی ہے۔ تعلیمی ادارے، شادی ہالز ، ریسٹورنٹس  اور سینما ہالز بدستور 30 جولائی تک بند رہیں گے، سماجی اور مذہبی اجتماعات، کھیلوں کی سرگرمیوں کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ حکومت نے ریسٹورنٹس کو صرف ٹیک آوے کی اجازت دی جبکہ ریسٹورنٹس کے ڈائنگ ہالز کھولنے پر مکمل پابندی ہے۔