’’شاہد خاقان عباسی کی تو خواہش تھی کہ انہیں گرفتار کیا جائے‘‘

’’شاہد خاقان عباسی کی تو خواہش تھی کہ انہیں گرفتار کیا جائے‘‘

( حسن خالد ) وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی تو خواہش تھی کہ انہیں گرفتار کیا جائے، شاہد خاقان عباسی چوری کھانے والے مجنوں نہ بنیں، انہوں نے میاں صاحب کے ساتھ عہد و پیمان نبھانے کی قسم کھائی تھی تو وہ ابھی سے بوکھلا گئے ہیں۔

نوے شاہراہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قانون کی عملداری جیسے جیسے رنگ پکڑتی ہے ان کے چہروں کے رنگ زرد پڑنے لگتے ہیں، آج شہباز شریف کے چہرے کا زرد رنگ یہ ثابت کررہا تھا کہ قانون اپنا کام کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سبق سب کو سیکھ لینا چاہیے کہ یہاں اصل حکمران پروردگار ہے باقی افراد ہیں جنہوں نے آنا ہے اور چلے جانا ہے لیکن جنہوں نے خدا کی دھرتی پر خدا بن کر اس کی مخلوق کا استحصال کیا انہیں آج شام غریباں آپ بیتی کی شکل میں قوم کو سنانی پڑی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی خواہش تھی کہ وہ بار بار نیب کو بلا کر کہہ رہے تھے کہ مجھے گرفتار کیوں نہیں کرتے، اب بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کو حکومت پر الزام تراشیاں اور وزیراعظم پاکستان کو اس عمل میں گھسیٹنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ن لیگ کی قیادت وزیراعظم سے ذاتی عداوت، حسد اور بغض رکھتی ہے۔ وزیراعظم کا صرف یہ جرم ہے کہ انہوں نے اس ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ جس جس کی داڑھی میں تنکا ہے اس کو ضمیر کی عدالت میں پریشانی،اضطراب کا سامنا ہے اور ضمیر کی عدالت کے قیدی کو میڈیا میں آکر وضاحتیں دینے کی ضرورت پڑرہی ہے۔