ایس ایس پی کے ہاتھوں شہباز تتلہ کے قتل کا انکشاف، پولیس نے چپ سادھ لی

ایس ایس پی کے ہاتھوں شہباز تتلہ کے قتل کا انکشاف، پولیس نے چپ سادھ لی

( عرفان ملک) شہباز تتلہ قتل کیس کی تحقیقات تاخیری حربوں کی نذر، پولیس 7روز بعد بھی مفخر عدیل کا سراغ لگانے میں ناکام، آلہ قتل اور لاش کے شواہد دستیاب نہ ہونے سے کیس پر گرفت کمزور پڑنے کا خدشہ، دوست کے ہاتھوں دوست کے قتل معمہ کی پشت پر غیرت سمیت مختلف وجوہات سامنے آنے لگیں۔

ایس ایس پی مفخرعدیل اور شہباز تتلہ ایڈووکیٹ کے مشترکہ دوست اسد بھٹی نے پولیس حراست میں مغوی ایڈووکیٹ کے قتل کا انکشاف کیا جس پر پولیس نے چپ سادھ لی، جائے وقوعہ سے شواہد ملے نہ ہی مقتول کی لاش اور نہ آلہ قتل ہاتھ لگا، اسد بھٹی کےبیان کو ثابت کرنے کیلئے شواہد کی عدم موجودگی آڑے آگئی۔

گرفتاراسد بھٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ براہ راست قتل میں ملوث نہیں , البتہ شواہدضائع کرنے میں معاون رہے،  اسد بھٹی نے تیزاب کے ڈرم عرفان نامی شخص سے منگوانے کا انکشاف بھی کیا، عرفان ایس ایس پی مفخر عدیل کی تیسری بیوی کا ملازم نکلا۔

با وثوق ذرائع کے مطابق شہباز تتلہ کے اغواء کے بعد مفخر عدیل کو جائے وقوعہ دھونے اور فرار ہونے میں پورا موقع دیا گیا، دو بار شامل تفتیش ہونے کے دوران شک گزرنے پر بھی حراست میں نہ لیا گیا، جس کے بعد مفرور ایس ایس  پی ایسے غائب ہوئے کہ پیچھے کوئی سراغ چھوڑا نہ ہی کوئی ثبوت۔

حکام کو قتل کیس کی تفتیش سےزیادہ محکمہ کی ساکھ بچانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے، پولیس کے اعلیٰ حکام ہائی پروفائل کیس میں محکمے کی ساکھ بچانے کی خاطر انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے جارہے ہیں، عدم شواہد کی بناء پر تیار ہونیوالا چالان عدالت میں پیش کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، لیکن باضابطہ موقف تاحال سامنے نہیں آسکا۔

ایس ایس پی کے 14 فروری کو ہونے والے تبادلے کو منظرعام پر نہیں لایا گیا، 14 فروری کو انہیں سنٹرل پولیس آفس کلوز کرنے کے باوجو تبادلہ دبائے رکھا گیا، آئی جی پنجاب نے 14 فروری کو بٹالین کمانڈر ون مفخرعدیل کو سی پی او کلوز کردیا تھا، محبوب رشید بٹالین کمانڈر فور کوبٹالین کمانڈر ون کا اضافی چارج دے دیا گیا، مفخر عدیل 11 فروری سے دفتر سے غیر حاضر تھے۔

 دوسری جانب مقدمہ کے مدعی مغوی شہباز تتلہ کے بھائی پر دباؤ ڈال کر خاموش رہنے کی ہدایات کردی گئی ہیں جو سارے معاملے میں کوئی بھی بیان دینے کو تیار نہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے اپنے دیرینہ دوست شہباز احمد تتلہ کے دفتر کے سامنے اکیڈمی بنا رکھی تھی، جہاں مقابلہ کا امتحان دینے کے خواہش مند لڑکے اور لڑکیوں کو تیاری کروائی جاتی تھی، دونوں دوستوں کے دفاتر بھی ایک ہی بلڈنگ میں تھے، سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شہباز احمد تتلہ کا دفتر اور اکیڈمی ابرار مارکیٹ کی پہلی منرل پر واقع ہیں۔

 محلے داروں کے مطابق مفخر عدیل کا ابرار تتلہ کے ہاں اکثر آنا جانا تھا،دونوں کے دوست جن میں سرکاری افسر بھی شامل ہیں اکثر یہاں آتے تھے۔ شہباز تتلہ کے موبائل فون اور پرس بھی اسی دفتر سے برآمد ہوئے تھے۔