افغان طالبان نے سرکاری یونیفارم  پہن لی،ویڈیووائرل

افغان طالبان نے سرکاری یونیفارم  پہن لی،ویڈیووائرل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : افغان طالبان نے سرکاری یونیفارم  پہن  کر  ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ہتھیاروں سے لیس بدری313 یونٹ کو کابل میں صدارتی محل اور اہم تنصیبات کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

  تفصیلات  کے مطابق طالبان کے سرکاری اکاؤنٹ الامارتہ کی طرف سے جاری ویڈیو  کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جدید آلات اور امریکی ہتھیاروں سے لیس بدری313 یونٹ کو کابل میں صدارتی محل اور اہم تنصیبات کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔


طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کو ہتھیار، گولہ بارود مختار طالبان ارکان کے حوالے کرنے ہوں گے۔ یہ بات طالبان عہدے دار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے  کہ افغان طالبان کے رہنما منظر عام پر آئیں گے، دنیا ہمارے رہنماؤں کو بتدریج دیکھے گی، کوئی راز داری نہیں رہے گی۔ طالبان عہدے دار کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان ارکان کو افغانستان میں اپنی فتح کا جشن نہ منانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالتے ہی خواتین کے پردے سے متعلق نئی پالیسیز کا اعلان کیا گیا ہے جس میں خواتین کا برقع پہننا ضروری نہیں جبکہ حجاب اوڑھنا (سر ڈھانپنا) لازمی قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد گزشتہ روز افغان طالبان کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں خواتین سے متعلق بات کرتے ہوئے افغان طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے برقع اوڑھنا لازم نہیں ہے جبکہ حجاب کرنا ضروری ہوگا، وہ اپنے گزشتہ دورِ اقتدار کی طرح اس بار خواتین کے لیے سر تا پاؤں برقع پہننا لازمی قرار نہیں دیں گے۔

افغان طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالتے ہی خواتین کے پردے سے متعلق نئی پالیسیز کا اعلان کیا گیا ہے جس میں خواتین کا برقع پہننا ضروری نہیں جبکہ حجاب اوڑھنا (سر ڈھانپنا) لازمی قرار دیا گیا ہے۔

افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد گزشتہ روز افغان طالبان کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں خواتین سے متعلق بات کرتے ہوئے افغان طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے برقع اوڑھنا لازم نہیں ہے جبکہ حجاب کرنا ضروری ہوگا، وہ اپنے گزشتہ دورِ اقتدار کی طرح اس بار خواتین کے لیے سر تا پاؤں برقع پہننا لازمی قرار نہیں دیں گے۔

طالبان ترجمان کایہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو شرعی حدود میں کام کی اجازت ہے، خواتین ہمارے معاشرے کا معزز حصہ ہیں۔  ہماری بہنوں اور ہماری عورتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، تعلیم، صحت اور دیگر تمام شعبوں میں وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے والی ہیں، خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا لیکن یہ سب اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کے گزشتہ دور اقتدار 1996ء سے 2001ء تک خواتین کے لیے سخت پردہ اور برقع پہننا لازمی تھا جبکہ اس دوران لڑکیوں کے اسکول جانے اور خواتین کے سفر اور کام کرنے پر بھی پابندی عائد تھی۔