اورنج لائن ٹرین منصوبے پر چائنیز کو شدید تحفظات، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اورنج لائن ٹرین منصوبے پر چائنیز کو شدید تحفظات، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

(درنایاب)ایم ڈی پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سبطین فضل حلیم نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے پیکج ٹو اور تھری پر چائنیز کے تحفظات پر مبنیٰ رپورٹ   سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ایم ڈی سبطین فضل حلیم نے سپریم کورٹ میں پیکج ٹو اور تھری پر سول ورکس کی سست روی کا اعتراف بھی کرلیا، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کی کاپی سٹی 42 نے حاصل کرلی، ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے پیکج ون اور فور کو تسلی بخش قرار دیا۔

 ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے رپورٹ میں پیکج ٹو اور تھری پر چائنیز کنٹریکٹر کے تحفظات سے آگاہ کیا، رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیکج ٹو اور تھری کا سول ورکس پر کنٹریکٹر زیڈ کے بی کا رویہ غیرسنجیدہ ہے، چائنیز کنٹریکٹر سی آر نورینکو اور نیسپاک بھی کنٹریکٹر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، پیکج ٹو کے سٹیشنز اور سلپ ویز کا کام مسلسل تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق زیڈ کے بی ریلائیبل کے رویے کے باعث 31 جولائی 2019 کی حکومتی ڈیڈلائن متاثر ہوسکتی ہے، چائنیز کنٹریکٹر ٹیسٹنگ اور کمشنگ کیلئے تین ماہ سے زائد کا وقت مانگ رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں اورنج لائن ٹرین کو 31 جولائی تک چلانا ناممکن ہے، ایل ڈی اے کا انجینئرنگ ونگ ٹھیکیداروں سے بروقت کام کروانے میں ناکام ہے۔