سمارٹ سٹی کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کا مکروہ دھندہ جاری

سمارٹ سٹی کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کا مکروہ دھندہ جاری

(در نایاب) لاہور شہر میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی آڑ میں سادہ لوح شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے کا مکروہ دھندا عروج پرہے ، لاہور سمارٹ سٹی کے نام پر بغیر کسی منظوری کے پلاٹوں کے ہیر پھیر سے اربوں روپے کا دھندا کیا جارہا ہے ، ایل ڈی اے نے خاموشی اختیار کرکے فراڈ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی ۔

لاہور میں سمارٹ سٹی کے نام پر خوابوں کی مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔ ایک کروڑ سے زائد کی آبادی والے اس شہر میں خوابوں کو بیچنے کا دھندا پرانا نہیں، بن عالم سٹی،گرینڈ ایونیو کے بعد جعلی اور کاغذی سکیمیں دکھا کر بازی گروں لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹنے کا کام کیاہے۔

لاہور سمارٹ سٹی حبیب رفیق گروپ کا شاہکار ہے جس کی نہ کوئی منظوری ہے نہ ہی آج تک این او سی کیلئے کیس اپلائی کیا گیا۔ کالا شاہ کاکو انٹرچینج کے قریب موٹروے لنک سے متصل 4530 کنال پر سکیم کا پلان بنا کر فراڈ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر بغیر منظوری کے ہی انویسٹرز اور ڈیلروں نے ہوائی پلاٹوں کو بیچنے کا گھناؤنا کاروبار شروع کیاہواہے ۔ چند ہی دنوں میں پری لانچ ڈیل کے نام پر غیر قانونی طور پر کاغذی پلاٹ بیچ کر آٹھ ارب کی فائلیں سادہ لوح شہریوں کو بیچ دی گئیں۔

شہر میں جب فائلوں کا کاروبار عروج پر پہنچا تو ایل ڈی اے نے غیر قانونی سکیم کا اشتہار دیا جو صرف دو دن بعد طاقتور مافیا نے غائب کروا دیا۔اب ایل ڈی اے شعبہ میٹروپولٹین پلاننگ نے طویل خاموشی اختیار کرلی ہے۔طاقتور گروپ حبیب رفیق گروپ نے قانونی لوازمات پورے کرنے کی بجائے سادہ لوح پاکستانیوں سے فراڈ کرنے کے بعد اورسیز کو بھی لوٹنے کا پلان بنایا  لیکن قانون حرکت میں نہ آیا، سکیم کے ستر فیصد کاغذی پلاٹ فائلوں کی صورت میں مارکیٹ میں بیچ دیئے گئے۔ چیف میٹروپولٹین پلانر ندیم اختر زیدی کا کہنا  ہے کہ شہری کسی بھی جعلی سکیم کے جھانسے میں آنے سے پہلے ایک مرتبہ رجوع ضرور کریں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق لاہور سمارٹ سٹی کے فراڈ میں جہاں ڈیلروں سے چالیس چالیس کروڑ بٹورے گئے، وہیں ڈاون پے منٹ کے نام پر دو ارب کیش بھی مارکیٹ سے لپیٹ لیا گیا۔لاہور سمارٹ سٹی جو راوی کے پاس فلڈ ایریا میں ہے۔اس سکیم کو بیچنے کے لئے جو خسرے دکھائے گئے وہ بھی ریور راوی کے سیکشن چار میں آگئے، تھوڑی زمین دکھا کر زیادہ فائلیں تو بیچی گئیں لیکن زمین کا نہ ہونا ، منظوری تو دور کی بات سکیم کا این او سی اپلائی کئے بغیر آٹھ ارب کا دھندا کرلینے کی مثال شائد کم ہی ملے۔ چیف کمرشل آفیسر لاہور سمارٹ سٹی عمران زاہد نے موقف دیتے ہوئے کہا،شہر میں بے شمار اور بھی غیر قانونی سوسائٹیاں ہیں لیکن ان سے کوئی نہیں پوچھتا، ہم جلد کارروائی پوری کرلیں گے۔

دیکھنا یہ ہے تحقیقاتی اداروں کے ناک تلے شہر میں جعلی اور غیر قانونی سکیموں کے نام پر لوٹ مار کا بازار کب تک گرم رہے گا؟

شہر میں جعلی اور غیر قانونی رہائشی سکیموں کا دھندہ عروج پر ہے، ایل ڈی اے کوچاہئے کہ اس کیخلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے، اس سے قبل کہ شہری جمع پونجی لٹانے کے بعد خود کشیوں پر مجبور ہوجائیں۔