رانا ثناءاللہ اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

 رانا ثناءاللہ اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

(شاہین عتیق) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نیب آفس ہنگامہ آرائی کیس میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت لیگی ارکان کی عبوری ضمانت میں 20 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے مریم  نواز کی پیشی پر ہنگامہ آرائی کیس کی سماعت کی، ملزمان کے وکیل فرہاد علی شاہ نے کہا کہ  مقدمے میں ایسے رہنما بھی شامل ہیں جو اس وقت وہاں موجود ہی نہیں تھے، حکومتی ایماء پر 23 دن کے بعد دہشتگردی کی دفعات شامل کروائی گئیں۔ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے فوری بعد یہ دفعات شامل کی گئیں جس سے بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔

 ملزمان کے وکیل نے کہا کہ 19 اکتوبر سے بحث کا آغاز کر دیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سب کا کیس ایک ہے، ایک وکیل بھی بحث کر لے تو بحث مکمل ہو جائیگی۔

 عدالت میں سماعت سے قبل فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نے درخواست کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو عدالت میں چلایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون موقع پر تھا۔

 عدالت نے رانا ثناءاللہ اور کیپٹن (ر) صفدر،خالد فاروق، راؤ شہاب الدین، امجد بٹ اور شہباز چھڈر سمیت لیگی ارکان کی عبوری ضمانت میں 20 اکتوبر تک توسیع کر دی۔ 

عدالت میں پیشی کے موقع پر کیپٹن(ر) صفدر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جتنے مرضی پرچے دے دیں ہم جھکنے والے نہیں, اپوزیشن کو دبانے کیلئے اس طرح کے کیسز بنائے گئے ، رانا ثنا ءاللہ پر بھی منشیات کا جھوٹا کیس دائر کیاگیا،حیات آباد میں مجھ پر جھوٹا کیس بنایاگیا۔