منحرف اراکین کی نااہلی کا ریفرنس، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنادیا

سپریم کورٹ آف پاکستان
کیپشن: Supreme Court of Pakistan
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک:منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی  ریفرنس پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

تفصیلات کے مطابق  سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔منحرف ارکان کی تا حیات نااہلی بھی نہیں ہوگی۔مستقبل میں انحراف روکنے کا سوال عدالت نے صدر کو واپس بھجوادیا۔ 

سپریم کورٹ  نے اپنے فیصلے میں مزید کہا آرٹیکل 63 اے کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو انحراف نہ کرنا پڑے۔ آرٹیکل 63 اے کا مقصد جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔پارلیمنٹ کو منحرف ارکان سے متعلق قانون سازی کرنی چاہیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ وقت آگیا ہے منحرف ارکان سےمتعلق پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے۔سیاسی جماعت کے سربراہ کے پاس ارکان کیخلاف کارروائی کا اختیار ہے۔ کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کیلئے لازمی ہیں۔انحراف کرنا کینسر کے مترادف ہے۔ آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں۔انحراف سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل کر سکتا ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں خارج کردیں۔

واضح رہے کہ عدالتی فیصلہ ت2-3 کی نسبت سے آیا ہے۔جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریفرنس بغیر رائے دیئے واپس بھجوادیا۔عدالتی فیصلے کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔