ایس او پیز پر عملدرآمد،تاجروں نے حکومت کو صاف جواب دیدیا

ایس او پیز پر عملدرآمد،تاجروں نے حکومت کو صاف جواب دیدیا

سعید احمد سعید:تاجر برادری نےہفتے میں سات دن چوبیس گھنٹےکاروبار کھولنےکا مطالبہ کردیا،کہتے ہیں کہ عید میں ایک ہفتہ باقی ہے،کل ٹرانسپورٹ کھلنےکےبعد بازاروں میں مزید دباؤ بڑھےگا،حکومت کا بیانیہ عوام نےمسترد کیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران کےعہدیداروں  نے  پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سے ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹےکاروبار کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں،جنرل سیکرٹری نعیم میرکہتے ہیں کہ عید میں وقت بہت کم اورایس او پیز پر عملدرآمد کرانا ناممکن ہے،عوامی دباؤ کم کرنےکے لیے چوبیس گھنٹے کاروبار کھولنا ناگزیر ہے۔

صدر آل پاکستان انجمن تاجران لاہورملک امانت کا کہنا تھا کہ ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹس کےلیےدو شیڈول جاری کیے جائیں،ایس او پیز پر عملدرآمد حکومت کا کام ہے،تاجر برادری بھرپورساتھ دے گی۔

تاجر برادری نےکل ٹرانسپورٹ کھلنے پرچھوٹے شہروں کےخریداروں کی لاہور آمد پر معاملات مزید خراب ہونےکا عندیہ دے دیا،،انکا کہنا تھا کہ 24 گھنٹے مارکیٹیں کھولنےسے رش میں کمی آئے گی،حکومت تاجروں کےساتھ تعاون کرے۔

یاد رہے انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصود بٹ لاہور کی مارکیٹوں کی بندش اور صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کے بیان کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کہا کہ تاجروں نے بتائے بغیر لاک ڈاون کے حوالے سے حکومت کا پورا ساتھ دیا ۔ لاک ڈاون میں نرمی کے حوالے سے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اسلم اقبال نے تاجروں سے شکوہ کیا جو کچھ حد تک جائز تھا۔لیکن تمام ذمہ داری تاجروں کی نہیں کچھ حکومت کی بھی ذمہ دار ہے۔

دکانوں کے اندر کے ایس او پیز تاجر پورے کروانے کے ذمہ دار ہیں۔روڈز کے اوپر کے ایس او پیز ہمارا کام نہیں متعلقہ ادارے کہاں ہیں۔چند تاجروں کی غلطی کی سزا پورے لاہور کی تاجر برادری کو دی گئی۔جو تاجر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتا ہے اس پر ایف آئی آر، جرمانہ کیا جائے۔ایک ہفتے کے لیے 24 گھنٹوں کے لیے دوکانیں کھولنے کی اجازت دے۔رش کو کم کرنے کے لیے 24 گھنٹے دوکانیں کھلنے چاہیے۔دفعہ 144 کی خلاف ورزی  نہیں کرنا چاہتے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صبح فجر سے شام پانچ بجے تک ہول سیل کی مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔