موبائل فون کے استعمال پر سیکٹرانچارجز اور وارڈنز کو آخری وارننگ

موبائل فون کے استعمال پر سیکٹرانچارجز اور وارڈنز کو آخری وارننگ

(عابد چودھری) ایس پی سٹی ٹریفک حماد رضا قریشی نے موبائل فون کے استعمال پر سیکٹرانچارجز اور وارڈنز کو آخری وارننگ دے دی۔

آج کل ہر شخص کے پاس موبائل ہے اور وہ اس کی دنیا میں گُم ہے، ایسا لگتا ہے موبائل فون ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے، ہم موبائل فون استعمال نہیں کر رہے بلکہ موبائل فون ہمیں استعمال کررہا ہے ،بہت سے لوگ سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، اٹھتے، بیٹھتے، یہاں تک کہ واش روم میں بھی موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں، یہاں تک جب ہمیں سڑک پر چلتے کسی کا فون آتا ہے تو ہم ٹریفک سے بے خبر ہوکر فون سننا شروع کردیتے ہیں اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریبا آدھی آبادی موبائل فون استعمال کر رہی ہے، 2016 میں بینک آف امریکہ کی طرف سے ایک سروے کیا گیاتو معلوم ہوا کے% 96لوگ جن کی عمر 18 سے 36 سال کے درمیان ہے۔انکا کہنا ہے کہ موبائل فون ان کی ایک اہم ضرورت ہے، ٪93لوگوں کی یہ رائے ہے کہ موبائل فون ان کے لیے ٹوتھ برش اور پرفیوم سے بھی زیادہ ضروری ہے اس سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہر شخص انفرادی طور پر اپنا موبائل فون ہر 6 منٹ کے بعد چیک کرتا ہے۔

وارڈنز دوران ڈیوٹی ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی بجائے موبائل فون کا استعمال کرنے لگے جس کے باعث مختلف علاقوں میں ٹریفک جام سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ایس پی سٹی ٹریفک حماد رضا نے وارڈنز کے موبائل فون استعمال کرنے پرڈی ایس پیز اورسیکٹر انچارجز کو مراسلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پرروانگی سے قبل سیکٹر انچارجز ٹریفک وارڈنز کے موبائل جمع کرنے کا پابند ہوگا جبکہ ریڈر سرکل افسران موبائل جمع کرنے کی روزانہ رپورٹ بھجوائیں گے، کسی سیکٹرمیں وارڈن موبائل کا استعمال کرتا پایا گیا تو سیکٹر انچارج کے خلاف کارروائی ہوگی۔