’’بھارت نے ہمیشہ غداروں کی مدد کی ‘‘

’’بھارت نے ہمیشہ غداروں کی مدد کی ‘‘

سٹی 42:دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھارت کا خطے میں کیا کردار رہا ہے، بھارت نےاپنے ہمسایہ  ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ہے۔  بھارت نے خطے کے  کچھ علاقوں پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔ پاکستان اور چین کے متعددعلاقے جن میں اسکائی چن، ٹرانس قراقرم، ارونا چل پردیش، جموں اینڈ کشمیر، سیاچن گلیشئر، سالتارو، سرکریک شامل ہیں پر بھارت نے زبردستی قبضہ جما رکھا ہے۔ اِس کے علاوہ بھارت کے متعدد علاقوں کے حوالے سے مالدیپ، سری لنکا، برما، نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تنازعات چل رہے ہیں، جن میں کالا پانی، نیپالی پٹی، سستا، منی کوئے، کچا چٹھایو، جنوبی تل پتی جزیرہ، بنگالی انکلیو اور دیگر شامل ہیں۔ ان متنازعہ علاقوں کی وجہ سے بھارت کی پاکستان ، چین اور سری لنکا کے ساتھ جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ بھارتی فوج نے کئی مرتبہ سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں، یہی نہیں بلکہ بھارت ہمسایہ ممالک میں پراکسی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا میں بغاوت اور دہشگردی کے پیچھے بھی بھارتی جاسوس ایجنسی را کا ہاتھ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

پاکستان میں تو بھارت باقاعدہ دہشتگردی کرتے  ہوئے پکڑا گیا،بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری دنیا کے پاس زندہ مثال ہے،اب افغان طالبان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ غداروں کا ساتھ دیا ہے۔طالبان کے اس بیان سے بھارت خطے سے کک آئوٹ ہوگیا ہے۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے منتظم شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا ہے کہ اگر  بھارت افغانستان میں مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔اپنے ایک انٹرویو میں قطر میں طالبان سیاسی دفتر کے منتظم شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا کہ  بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں غداروں کی مدد و حمایت کی جس کی وجہ سے افغانستان میں اس کا کردار منفی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  بھارت مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں، وہ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔افغان میڈیا کے مطابق امریکا کے نمائندہ برائے افغان امن عمل خصوصی زلمے خلیل زاد نے اس سلسلے میں بھارتی قیادت سے ملاقات کی بھی ہے اور  امریکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت  بھی افغان امن عمل کا حصہ بنے۔