مائوتھ و اش کے اجزا وائرس کے انفییکشن سے بچاتے ہیں، ڈبلیو ایچ او کی تردید

مائوتھ و اش کے اجزا وائرس کے انفییکشن سے بچاتے ہیں، ڈبلیو ایچ او کی تردید

 (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اقسام کے ماؤتھ واش کے غرارے کرنے سے بعض اقسام کے وائرس کے بیرونی غلاف تباہ ہوجاتے ہیں اور شاید ان میں کورونا وائرس بھی شامل ہے۔

تاہم عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ اس ضمن میں عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ ماؤتھ واش بالخصوص کورونا وائرس کے بیرونی خول شکستہ ہوجاتا ہے اور وہ مزید تعداد بڑھا نہیں سکتا۔

اس سے قبل بعض برطانوی سائنسدانوں اور بالخصوص کارڈیف یونیورسٹی کے ماہرینِ وبائیات نے ایک چھوٹی رپورٹ شائع کی ہے جن میں کیمبرج اور دیگر اداروں کے سائنسداں بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈبلیوایچ او مائیکل ریان کا جینیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انسانی آبادی میں ایک نیا وائرس داخل ہوا ہے اس لئے پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ وائرس پر کب تک قابو پایا جاسکتا ہے، مائیکل ریان نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ  ایچ آئی وی  کی طرح شاہد کورونا بھی کبھی ختم نا ہو اور دنیا  کی پوری آبادی کو اس کے ساتھ رہنا پڑے گا۔

اقوامِ متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ  کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے اور اس کی وجہ کئی ممالک میں ذہنی امراض کے علاج پر عدم توجہ ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت(ڈبلیو ایچ او )کے ہنگامی حالات کے شعبے کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے کورونا کے بارے میں یہ خدشہ بات بدھ کو جنیوا میں ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیا۔

 واضح رہے کہ دنیا بھر میں کوورنا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی 100 سے زیادہ کوششتیں جاری ہیں مگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کبھی نہ بن سکے گی۔ مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ اگر ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کے لیے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گیا، اب بھی دنیا میں خسرہ جیسی کئی بیماریاں ہیں جن کی ویکسین موجود ے مگر ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔